خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 485
485 $2003 خطبات مسرور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ” ایک فضول امر ہے مگر ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا، کسی شخص نے حضرت علی کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں، اسے منع کیوں نہیں کرتے؟ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچےملزم نہ بنایا جاؤں ﴿أَرَتَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی۔ہاں اگر کسی شخص نے عمد نماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضائے عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اُس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو کیوں منع کرتے ہو آخر دعا ہی کرتا ہے۔ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آجاؤ“۔(الحكم ۲٤ اپریل، ۱۹۰۳ ء فتاوی حضرت مسیح موعود عليه السلام صفحه ٦٥) آپ نے فرمایا کہ:- جو شخص عمد أسال بھر اس لئے نماز کو ترک کرتا ہے کہ قضائے عمری والے دن ادا کرلوں گا تو وہ گنہگار ہے اور جو شخص نادم ہوکر تو بہ کرتا ہے اور اس نیت سے پڑھتا ہے کہ آئندہ نماز ترک نہ کروں گا تو اس کے لئے حرج نہیں۔ہم تو اس معاملہ میں حضرت علی ہی کا جواب دیتے ہیں۔“ (البدر جلد ٢ نمبر ١٥ مورخه یکم مئى ١٩٠٣ ء صفحه ١١٤) تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس طرح کی نماز پڑھنے والے کی نیت کا تو پتہ نہیں کہ کس نیت سے پڑھ رہا ہے۔اگر تو اس کی نیت یہی ہے کہ اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے اور توبہ استغفار کرتے ہوئے اس لئے پڑھ رہا ہے کہ آئندہ نمازیں بھی نہیں چھوڑوں گا اور پوری توجہ سے پڑھوں گا اور جمعہ بھی نہیں چھوڑوں گا تو پڑھنے دو اس کو، کوئی حرج نہیں۔اور اگر اس کی نیت قضائے عمری کی ہے کہ اس دفعہ پڑھ لی پھر آئندہ دیکھیں گے تو یہ بہر حال غلط ہے، وہ گنہگار ہے۔جمعہ کی فرضیت کے بارہ میں احادیث پیش کرتا ہوں جن میں جمعہ کی فرضیت کے بارے میں تو آیا ہوا ہے کہ جمعہ کتنا ضروری ہے لیکن یہ تو نہیں لکھا گیا کہ جمعۃ الوداع کتنا ضروری ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دنوں میں بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔اس میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن حبوط آدم ہوا۔اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے