خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 484
خطبات مسرور 484 $2003 اللہ تعالیٰ اس حدیث کے مطابق ہمیں توفیق دینے کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔اور اس رمضان میں ہمارے اندر جو پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں اس پر اللہ کا فضل مانگتے ہوئے ہمیں بھی کام کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ ہمیں اس پر قائم رکھے اور ہماری مساجد اس بات کی گواہی دیں کہ احمدیوں نے پانچ وقت کی نمازوں کے لئے مساجد میں آنے کی طرف جو توجہ دی تھی اور جس طرح مساجد آباد کی تھیں وہ رمضان گزرنے کے ساتھ ہی خالی نظر نہیں آرہیں بلکہ اب بھی اسی طرح بارونق اور آباد ہیں جس طرح رمضان میں ان کی رونق تھی۔پھر رمضان کے بعد آنے والا ہر جمعہ اس بات کی گواہی دے کہ امام الزمان کو مان کر ہم نے اپنے اندر جو پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور اس رمضان میں ہم نے اسے مزید نکھارا ہے اب اس نکھار کا اظہار ہر جمعہ پر نظر آرہا ہے۔یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو صرف جمعۃ الوداع پر قضاء عمری کے لئے مسجدوں میں نظر آتے ہیں۔یہ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔یہ تو وہ لوگ ہیں جن کا تقویٰ ترقی پذیر ہے، جن کا ہر قدم پہلے سے آگے بڑھنے والا ہے۔اب یہ اس بے فکری میں نہیں ہوتے کہ چلو رمضان ختم ہوا ،اب اگلا رمضان جب آئے گا تو دیکھ لیں گے پھر جمعتہ الوداع پڑھ لیں گے۔بلکہ ایسے لوگ جنہوں نے تبدیلی پیدا کی ہے، اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کبائر سے بچنے کے لئے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق، جو حدیث میں نے ابھی پڑھی تھی ، کہ اس جمعہ کے بعد دوسرا جمعہ بھی ادا کرنا ہے، وہ بھی ضروری ہے۔ہاں رمضان کا ہمیں انتظار رہے گا لیکن اس لئے نہیں کہ قضائے عمری ادا کرنے کا موقع مل جائے گا بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس میں کھول دئے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دیا جاتا ہے۔اللہ کے قرب پانے کا مزید موقع میسر آئے گا۔اس لئے ہم آئندہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں۔قضائے عمری کی بات چلی ہے۔اس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ارشاد بھی ہے وہ میں پڑھ کے سناتا ہوں۔’ایک سوال ہوا کہ جمعۃ الوداع کے دن لوگ چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور اس کا نام قضاء عمری رکھتے ہیں اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ گزشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں، اُن کی تلافی ہو جاوے،اس کا کوئی ثبوت ہے یا نہیں؟