خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 469 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 469

خطبات مسرور 469 $2003 حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آخری عشرہ میں آنحضرت یہ عبادت میں اتنی کوشش فرماتے جو اس کے علاوہ دیکھنے میں نہ آتی۔(صحیح مسلم، كتاب الاعتكاف باب االجتهاد في العشر الاواخر۔۔۔۔۔۔۔عام حالات میں بھی آنحضرت ﷺ کی عبادت کی مثالیں ایسی ہیں کہ کوئی عام آدمی اتنی کر ہی نہیں سکتا لیکن حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رمضان میں تو اس کی حالت ہی اور ہوتی تھی۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی ﷺ آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو کمر ہمت کس لیتے ، اپنی راتوں کو زندہ کرتے اور گھر والوں کو بیدار فرماتے۔تو یہ بھی ایک سبق ہے کہ جب آدمی خود اٹھے تو اپنی بیوی بچوں کو بھی نمازوں کے لئے نوافل کے لئے اٹھائے۔پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قیام لیل مت چھوڑنا اس لئے کہ رسول الله یا اللہ نہیں چھوڑتے تھے اور جب آپ بیمار ہوتے یا جسم میں ستی محسوس کرتے تھے تو بیٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے۔(ابوداؤد ) دیکھیں آنحضرت ﷺ کا عمل کیا تھا۔یہ عمل ہم اختیار کریں تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کو سمیٹنے کی امید کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آخری دس راتوں میں لیلۃ القدر تلاش کرنے کے بارہ میں ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں۔بخاری اور مسلم نے ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے بھی اور ہم نے بھی رمضان کی پہلی دس تاریخوں میں اعتکاف کیا۔اس کے خاتمہ پر حضرت جبرائیل آئے اور رسول کریم ﷺ کو خبر دی کہ جس چیز (لیلۃ القدر ) کی آپ کو تلاش ہے وہ آگے ہے۔اس پر آپ نے ہم سب نے درمیانی دس دنوں کا اعتکاف کیا۔اس کے خاتمہ پر پھر حضرت جبرئیل نے ظاہر ہوکر آنحضرت ﷺ سے کہا کہ جس چیز کی آپ کو تلاش ہے وہ آگے ہے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے بیسویں رمضان کی صبح کو تقریر فرمائی اور فرمایا کہ مجھے لیلۃ القدر کی خبر دی گئی تھی مگر میں اُسے بھول گیا ہوں اس لئے اب تم آخری دس راتوں میں سے وتر راتوں میں اس کی تلاش کرو۔میں نے دیکھا ہے کہ لیلتہ القدر آئی ہے اور میں مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں۔اس وقت مسجد نبوی کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور جس دن آپ نے یہ تقریر فرمائی بادل کا نشان تک نہ تھا۔پھر یہ روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ اچانک بادل کا ایک ٹکڑا آسمان پر ظاہر ہوا اور بارش شروع ہوگئی۔پھر جب الله