خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 470

470 $2003 خطبات مسرور نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پر مٹی اور پانی کے نشانات ہیں ، ایسا خواب کی تصدیق کے لئے ہوا صحیح بخاری اور مسلم نے اس کو درج کیا ہے۔حضرت مصلح موعود اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : ابوسعید کی ایک اور روایت میں یہ واقعہ ۲۱ ر رمضان کو ہوا تھا۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ امام شافعی کہتے ہیں کہ اس بارہ میں یہ سب سے پختہ روایت ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر رمضان کی ستائیسویں رات جمعہ کی رات ہو تو وہ خدا کے فضل سے بالعموم لیلۃ القدر ہوتی ہے۔(رونامه الفضل لاهور ۱۸ جولائی ١٩٥٠ء) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔(صحيح بخارى كتاب الصوم باب من صام رمضان حيح مسلم - كتاب الصوم ) جورمضان المبارک میں لیلۃ القدر کی رات ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے نفس کے محاسبہ کی خاطر عبادت کرے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔اس حدیث میں دو بڑی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی یہ کہ ایمان کی حالت میں اور دوسری یہ کہ نفس کے محاسبہ کے لئے۔اگر اس پر غور کیا جائے تو اصل ایمان کی حالت تو وہ ہے جب مکمل یقین کے ساتھ انسان کو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر ایمان ہو۔مثلاً اگر یہ یقین ہو کہ وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے، وہ بخشنے والا ہے، تمام گناہوں کو معاف کر سکتا ہے، اور کرتا ہے وہاں وہ سزا دینے کا بھی حق رکھتا ہے اور دل اس کے خوف اور اس کی خشیت سے پگھلتے ہوں تو اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، استغفار کرے تو وہ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ استغفار اور تو بہ دو چیزیں ہیں۔استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا تعالیٰ سے حاصل کی جاتی ہے۔اور تو بہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ جب اس سے مدد اور قوت مانگو تو وہ عطا کرتا ہے اور