خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 468
468 $2003 خطبات مسرور فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کے شروع سے آخر تک تمام نمازیں باجماعت ادا کیں تو اس نے لیلۃ القدر کا بہت بڑا حصہ پالیا۔گویا صرف آخری دنوں میں تلاش نہ کریں بلکہ سارے رمضان میں پوری عبادات بجالائیں۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا ہے جو ایک بابرکت مہینہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کے روزے رکھنا تم پر فرض کئے ہیں۔اس میں جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دئے جاتے ہیں۔اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔جو اُس کی خیر سے محروم کیا گیا وہ محروم کر دیا گیا۔( مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۲۵) تو ایک بات تو یہ واضح ہوئی ان حدیثوں سے کہ یہی نہیں ہے کہ سارا رمضان تو نہ روزوں کی طرف توجہ دی، نہ قرآن پڑھنے کی طرف توجہ ہوئی، نہ نمازوں کے قیام کی طرف توجہ ہوئی ، اور آخری عشرہ شروع ہوا تو ان سب عبادات کی طرف توجہ پیدا ہوگئی۔نہیں۔بلکہ رمضان کے شروع سے ہی ان عبادات کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔جو برائیاں پائی جاتی ہیں ان کو چھوڑنے کی طرف توجہ، بھائی بہنوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دیں، میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دیں ، ساس بہو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دیں۔تو شروع رمضان سے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف توجہ ہو تو یہ نیکیاں بجالائیں گے تو تب ہی جہنم کے دروازے بند ہوں گے اور جنت کے دروازے کھلے ہوں گے نہیں تو گواللہ تعالیٰ نے تو جہنم کے دروازے بند کر دئے لیکن ان نیکیوں کو نہ کرنے سے زبردستی یہ برائیاں کر کے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد ادانہ کر کے دھکے سے جہنم کے دروازے کھولنے کی کوشش کی جارہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے۔تو یہ حقوق العباد اور حقوق اللہ ادا کریں گے جن کا ذکر دوسری حدیثوں میں بھی آتا ہے تو پھر ان آخری راتوں کی برکات سے بھی فائدہ اٹھائیں گے۔کیونکہ سرسری عبادات سے یا عارضی طور پہ آخری دس دن کی عبادات سے یہ اعلیٰ معیار جو ہیں وہ حاصل نہیں ہو سکتے۔بلکہ آنحضرت کے اسوہ حسنہ کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔