خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 440

440 $2003 خطبات مسرور وہ اندھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی حکمت کا ملہ سے آگاہ نہیں ہیں۔تزکیہ نفس کے واسطے یہ عبادات لازمی پڑی ہوئی ہیں۔یہ لوگ جس عالم میں داخل نہیں ہوئے اس کے معاملات میں بیہودہ دخل دیتے ہیں اور جس ملک کی انہوں نے سیر نہیں کی اس کی اصلاح کے واسطے جھوٹی تجویزیں پیش کرتے ہیں۔ان کی عمریں دنیوی دھندے میں گزرتی ہیں۔دینی معاملات کی ان کو کچھ خبر نہیں۔کم کھانا اور بھوک برداشت کرنا بھی تزکیہ نفس کے واسطے ضروری ہے۔اس سے کشفی طاقت بڑھتی ہے۔انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا۔بالکل ابدی زندگی کا خیال چھوڑ دینا اپنے اوپر قہر الہی کا نازل کرنا ہے۔مگر روزہ دار کو خیال رکھنا چاہئے کہ روزے سے صرف یہ مطلب نہیں کہ انسان بھوکا ر ہے بلکہ خدا کے ذکر میں بہت مشغول رہنا چاہئے۔بدنصیب ہے وہ شخص جس کو جسمانی روٹی ملی مگر اُس نے روحانی روٹی کی پرواہ نہیں کی۔جسمانی روٹی سے جسم کو قوت ملتی ہے ایسا ہی روحانی روٹی روح کو قائم رکھتی ہے۔اور اس سے روحانی قومی تیز ہوتے ہیں۔خدا سے فیضیاب ہونا چاہو کہ تمام دروازے اس کی توفیق سے کھلتے ہیں۔تقاریر جلسه سالانه ۱۹۰۶ ء صفحه ۲۰ - ۲۱) پھر ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن انسانوں کے لئے ہدایت کے طور پر اتارا گیا ہے جس میں ہدایت کی تفصیل دی گئی ہے اور سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والے امور بیان کئے گئے ہیں۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ایک تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان غور سے اس کو پڑھے ، اس کو سمجھنے کی کوشش کرے،اس کے احکامات کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرے تو خدا تعالیٰ کی معرفت بھی اس کو حاصل ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ ایسے بندوں کو اپنے پیاروں میں شامل کر لیتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ یعنی قرآن میں تین صفتیں ہیں۔اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا ان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔(تفسیر حضرت مسیح موعود عليه السلام جلد اول صفحه (۲۴۸)