خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 441

441 $2003 خطبات مسرور تو اس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ یہ تین باتیں جو بیان کی گئی ہیں کیونکہ شریعت اب کامل ہوئی ہے آنحضرت ﷺ پر پہلے لوگوں پر صرف اس علاقے یا وقت کے لحاظ سے احکامات دئے گئے تھے، تمام علوم دین نہیں بتائے گئے تھے اس لئے آنحضرت ﷺ پر یہ کامل کتاب اتاری گئی ہے اور تمام قسم کی ہدایت جس کی انسان کو ضرورت پڑسکتی ہے اس میں بیان کر دی گئی ہے۔پھر ایسے تمام احکامات جو پہلے واضح نہ تھے، پہلے انبیاء کی تعلیم میں معین نہ ہوئے تھے یا ایسے علوم جن کا معین طور پر انسان کو علم نہ تھا اس کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا۔پھر ساتھ ہی یہ ہے کہ دلیل کے ساتھ حق اور باطل، سیچ اور جھوٹ ، غلط اور صحیح میں فرق بتایا گیا ہے۔تو جس قدر استطاعت ہے اس پر غور کرتا رہے اس لئے قرآن شریف زیادہ پڑھنا چاہئے اور اس کی حسین تعلیم پر عمل کرنا چاہئے ، اس سے حصہ لینا چاہئے۔بہر حال رمضان اور قرآن کی ایک خاص نسبت ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جبریل ہر رمضان میں جتنا قرآن نازل ہو چکا ہوتا آنحضرت ﷺ کے ساتھ مل کر اسے دہراتے تھے۔اس لئے بھی ان دنوں میں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور درسوں میں شامل ہونے کی طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ اس کا ادراک پیدا ہو، اس کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو، معرفت حاصل ہو۔پھر آگے اس میں بیان ہوا ہے روزے کے بارہ میں کہ کیا کیا رخصتیں ہیں اور کتنا رکھنا چاہئے اس بارہ میں گزشتہ خطبے میں سب بیان ہو چکا ہے۔پھر اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ میرے بندوں سے کہہ دو کہ میں تو تمہارے قریب ہوں۔دعا کے مضمون کے بارہ میں۔دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں۔لیکن تمہیں اگر دعا کے طریقے اور سلیقے آتے ہوں تو مجھے قریب پاؤ گے۔اس آیت کو روزوں کی فرضیت کی آیت کے ساتھ رکھا گیا ہے اور پھر اس سے اگلی آیت میں بھی رمضان کے بارہ میں احکام ہیں۔تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو اپنے سے مانگنے والوں کی باتیں سنتا ہوں۔لیکن تمہارا بھی تو فرض بنتا ہے کہ جو میرے احکامات ہیں ان کو مانو۔نیک باتوں پر عمل کرو، بری باتوں کو چھوڑو۔یہ تو نہیں کہ صرف دنیاداری کی باتیں ہی کرتے رہو۔کبھی مجھ سے میری محبت کا اظہار نہ ہو۔جب کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو آجاؤ۔گو ایسے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کسی مصیبت میں گرفتار دیکھ کر جب وہ پکارتے ہیں تو ان کی مدد کرتا ہے۔لیکن جب وہ مصیبت سے نکلتے ہیں تو پھر وہی باغیانہ رویہ اپنا لیتے ہیں۔تو یہ طریق