خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 425 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 425

خطبات مسرور 425 کھانا کھلایا جائے“۔( بدر جلد نمبر ۴۲ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۷ ) $2003 پھر فرماتے ہیں کہ : ” میرا مذہب ہے کہ انسان بہت دقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اس میں قصر و سفر کے مسائل پر عمل کرے۔اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنيات بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اٹھا کر (یعنی کچھ سامان وغیرہ لے کر ، بیگ وغیرہ لے کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔شریعت کی بنا وقت پر نہیں ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہئے۔فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے ہے۔الحكم جلد ٥ نمبر ٦ بتاريخ ۱۷ / فروری ۱۹۰۱ء) فرماتے ہیں: یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے، اس میں امر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو رکھ لے جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہ رکھنا چاہئے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں مگر عِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَر کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔سفر میں تکالیف اٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے، اس کو اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا۔یہ غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔(الحكم جلد نمبر ٤ بتاريخ ۳۱/جنوری ۱۸۹۹ء) تو ایسے لوگ جو اس لئے کہ گھر میں آج کل روزہ رکھنے کی سہولت میسر ہے روزہ رکھ لیتے ہیں ان کو اس ارشاد کے مطابق یا درکھنا چاہئے کہ نیکی یہی ہے کہ روزے بعد میں پورے کئے جائیں اور وہ روزے نہیں ہیں جو اس طرح زبر دستی رکھے جاتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر پر تھے۔آپ نے لوگوں کا ہجوم دیکھا اور ایک آدمی پر دیکھا کہ سایہ کیا گیا ہے۔آپ نے فرمایا: " کیا ہے؟“۔انہوں نے کہا کہ یہ شخص روزہ دار ہے۔آپ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔(بخاری کتاب الصوم باب قول النبي عل الله لمن ظلل عليه واشتد۔۔۔۔۔۔