خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 424
$2003 424 خطبات مسرور کتنا ہے، جو سفر تم سفر کی نیت سے کر رہے ہو وہ سفر ہے اور اس میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دو تین کوس کا سفر بھی سفر ہے اگر سفر کی نیت سے ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں برداشت ہے، ہم برداشت کر سکتے ہیں تو ایسے لوگوں کو یہ بات یادرکھنی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے۔خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت میں رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے۔میں نے پڑھا ہے کہ اکثر اکا بر اس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے۔جو حکم وہ دے اُس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اس نے تو یہی حکم دیا ہے۔مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيْضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ اُخَرَ اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو۔میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں۔چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔(الحكم جلد ١١ نمبر ٤ بتاريخ ۲۱ / جنوری ۱۹۰۷ء) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام کے روزے رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے۔خدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ نجات فضل سے ہے نہ کہ اپنے اعمال کا زور دکھا کرکوئی شخص نجات حاصل کر سکتا۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہو یا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبا ہو بلکہ حکم عام ہے۔اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا۔البدر بتاريخ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ء) پھر آپ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر رکھی ہے۔جو مسافر اور مریض صاحب مقدرت ہوں ان کو چاہئے کہ روزہ کی بجائے فدیہ دے دیں۔فدیہ یہ ہے کہ ایک مسکین کو