خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 426

426 $2003 خطبات مسرور پھر ایک اور بڑی واضح حدیث ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ سے ایک شخص نے رمضان کے مہینہ میں سفر کی حالت میں روزہ اور نماز کے بارہ میں دریافت کیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھو۔اس پر ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں۔نبی ﷺ نے اسے کہا کہ انتَ اقوی اممِ الله ؟ کہ تو زیادہ طاقتور ہے یا اللہ تعالیٰ ؟۔یقینا اللہ تعالیٰ نے میری امت کے مریضوں اور مسافروں کے لئے رمضان میں سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کو بطور صدقہ ایک رعایت قرار دیا ہے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ تم میں سے کسی کو کوئی چیز صدقہ دے پھر وہ اس چیز کو صدقہ دینے والے کولوٹا دے۔(المصنف للحافظ الكبير ابو بكر عبدالرزاق بن همام - الصيام في السفر تو اس سے مزید واضح ہو گیا کہ سفر میں روزہ بالکل نہیں رکھنا چاہئے۔لیکن بعض دفعہ بعض لوگ دوسری طرف بہت زیادہ جھک جاتے ہیں۔بعض اس سہولت سے کہ مریض کو سہولت ہے خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ میں بیمار ہوں اس لئے روزہ نہیں رکھ سکتا۔اور پوچھو تو کیا بیماری ہے؟ تم تو جوان آدمی ہو، صحت مند ہو، چلتے پھر رہے ہو ، بازاروں میں پھر رہے ہو ، بیماری ہے تو ڈاکٹر سے چیک اپ کرواؤ تو جواب ہوتا ہے کہ نہیں ایسی بیماری نہیں بس افطاری تک تھکاوٹ ہو جاتی ہے، کمزوری ہو جاتی ہے۔تو یہ بھی وہی بات ہے کہ تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔نفس کے بہانوں میں نہ آؤ۔فرمایا یہ ہے کہ نفس کے بہانوں میں نہ آؤ۔ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کا حال جانتا ہے۔خوف کا مقام ہے۔یہی نہ ہو کہ ان بہانوں سے کہیں ان حکموں کو ٹال کر حقیقت میں کہیں بیمار ہی بن جاؤ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”بے شک یہ قرآنی حکم ہے کہ سفر کی حالت میں اور اسی طرح بیماری کی حالت میں روزے نہیں رکھنے چاہئیں اور ہم اس پر زور دیتے ہیں تا قرآنی حکم کی بہتک نہ ہو مگر اس بہانے سے فائدہ اٹھا کر جو لوگ روزہ نہیں رکھ سکتے ہیں اور پھر وہ روزہ نہیں رکھتے یا ان سے کچھ روزے رہ گئے ہوں اور وہ کوشش کرتے تو انہیں پورا کر سکتے تھے لیکن ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ایسے ہی گنہگار ہیں جس طرح وہ گنہگار ہے جو بلا عذر رمضان کے روزے نہیں رکھتا۔اس لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ جتنے روزے اس نے غفلت یا کسی شرعی