خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 420

خطبات مسرور 420 $2003 ایک دینی مسئلہ ہے۔یا بلحاظ صحت انسانی دنیوی امور سے بھی کسی حد تک تعلق رکھتا ہے۔پس لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ کے یہ معنے ہوئے کہ تا تم دینی اور دنیوی شرور سے محفوظ رہو۔دینی خیر و برکت تمہارے ہاتھ سے نہ جاتی رہے یا تمہاری صحت کو نقصان نہ پہنچ جائے۔کیونکہ بعض دفعہ روزے کئی قسم کے امراض سے نجات دلانے کا بھی موجب ہو جاتے ہیں۔میں نے خود دیکھا ہے کہ صحت کی حالت میں جب روزے رکھے جائیں تو دوران رمضان میں بے شک کچھ کو فت محسوس ہوتی ہے مگر رمضان کے بعد جسم میں ایک نئی قوت اور ترو تازگی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا احساس ہونے لگتا ہے۔یہ فائدہ تو صحت جسمانی کے لحاظ سے ہے مگر روحانی لحاظ سے اس کا یہ فائدہ ہے کہ جولوگ روزے رکھتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔اسی لئے روزوں کے ذکر کے بعد خدا تعالیٰ نے دعاؤں کی قبولیت کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور اُن کی دعاؤں کو سنتا ہوں۔پس روزے خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی چیز ہیں اور روزے رکھنے والا خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالیتا ہے جو اسے ہر قسم کے دکھوں اور شرور سے محفوظ رکھتا ہے“۔(تفسير كبير جلد دوم صفحه ٣٧٤ - ٣٧٥ پھر اسی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں ایک اور فائدہ یہ بتایا کہ روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بچ جاتا ہے اور یہ غرض اس طرح پوری ہوتی ہے کہ دنیا سے انقطاع کی وجہ سے انسان کی روحانی نظر تیز ہو جاتی ہے اور وہ ان عیوب کو دیکھ لیتا ہے جو اسے پہلے نظر نہ آتے تھے۔اسی طرح گناہوں سے انسان اس طرح بھی بچ جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے روزہ اس چیز کا نام نہیں کہ کوئی شخص اپنامنہ بندر کھلے اور سارا دن نہ کچھ کھائے اور نہ بیٹے بلکہ روزہ یہ ہے کہ مونہہ کو صرف کھانے پینے سے ہی نہ روکا جائے بلکہ اسے ہر روحانی نقصان دہ اور ضرر رساں چیز سے بھی بچایا جائے۔نہ جھوٹ بولا جائے، نہ گالیاں دی جائیں، نہ غیبت کی جائے ، نہ جھگڑا کیا جائے۔اب دیکھو زبان پر قابورکھنے کا حکم تو ہمیشہ کے لئے ہے لیکن روزہ دار خاص طور پر اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه (۳۷۷