خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 421
421 $2003 خطبات مسرور اب یہ بھی یادر کھنے کی بات ہے کہ روزے دار گالی دیتا ہے، جھگڑا کرتا ہے، غیبت کرتا ہے، چغلی کرتا ہے تو ان حالتوں میں بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔تو یہ بڑی بار یک دیکھنے والی چیز ہے۔" اور اگر کوئی شخص ایک مہینہ تک اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے تو یہ امر باقی گیارہ مہینوں میں بھی اس کے لئے حفاظت کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔اور اس طرح روزہ اسے ہمیشہ کے لئے گناہوں سے بچا لیتا ہے۔( تفسير كبير جلد دوم صفحه (۳۷۷ حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ : ”روزوں کا ایک اور فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تقویٰ پر ثبات قدم حاصل ہوتا ہے اور انسان کو روحانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل ہوتے ہیں۔چنانچہ روزوں کے نتیجہ میں صرف امراء ہی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتے بلکہ غرباء بھی اپنے اندر ایک نیا روحانی انقلاب محسوس کرتے ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے وصال سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔غرباء بے چارے سارا سال تنگی سے گزارہ کرتے ہیں اور بعض دفعہ انہیں کئی کئی فاقے بھی آجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی ہے کہ وہ ان فاقوں سے بھی ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے فاقوں کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ حدیث میں آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا الصَّوْمُ لِی وَاَنَا اجزای به یعنی ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں لیکن روزہ کی جزا خود میری ذات ہے۔اور خدا تعالیٰ کے ملنے کے بعد انسان کو اور کیا چاہئے۔غرض روزوں کے ذریعہ غرباء کو یہ نکتہ دیا گیا ہے کہ ان تنگیوں پر بھی اگر وہ بے صبر اور ناشکرے نہ ہوں اور حرف شکایت زبان پر نہ لائیں جیسا کہ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کیا دیا ہے کہ نمازیں پڑھیں اور روزے رکھیں تو یہی فاقے ان کے لئے نیکیاں بن جائیں گی (اگر وہ حرف شکایت زبان پر نہ لائیں ) اور ان کا بدلہ خود خدا تعالیٰ ہو جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے روزوں کو غرباء کے لئے تسکین کا موجب بنایا ہے تا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ ہماری فقر و فاقہ کی زندگی کس کام کی۔اللہ تعالیٰ نے روزے میں انہیں یہ گر بتایا ہے کہ اگر وہ اس فقر وفاقہ کی زندگی کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزاریں تو یہی انہیں خدا تعالیٰ سے ملا سکتی ہے۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحه (۳۷۷-۳۷۸