خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 419
خطبات مسرور 419 $2003 ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل الله نے فرمایا: تمہارا یہ مہینہ تمہارے لئے سایہ فگن ہوا ہے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا حلفی ارشاد ہے کہ مومنوں کے لئے اس سے بہتر مہینہ کوئی نہیں گزرا اور منافقوں کے لئے اس سے بُرا مہینہ کوئی نہیں گزرا۔اس مہینے میں داخل کرنے سے قبل ہی اللہ عز وجل مومن کا اجر اور نوافل لکھ دیتا ہے جبکہ منافق ( کے گناہوں) کا بوجھ اور بدبختی لکھ لیتا ہے۔اس طرح کہ مومن مالی قربانیوں کے لئے اپنی طاقت تیار کرتا ہے اور منافق غافل لوگوں کی اتباع اور ان کے عیوب کی پیروی میں قوت بڑھاتا ہے۔پس در حقیقت یہ حالت مومنوں کے لئے غنیمت اور فاجر کے لئے (اس کے مطابق) سازگار ہوتی ہے۔(مسند احمد جلد نمبر ۲ مسند ابی (هريرة اب مالی قربانیوں میں بھی صدقہ و خیرات وغیرہ بہت زیادہ دینے چاہئیں۔آنحضرت عہ کے بارہ میں آتا ہے کہ ان دنوں آپ کا ہاتھ بہت کھلا ہو جاتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ روزوں کی فضیلت اور اس کے فرائض پر لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) کے الفاظ میں روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ روزے تم پر اس لئے فرض کئے گئے ہیں تا کہ تم بچ جاؤ۔اس کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔مثلاً ایک معنی تو اس کے یہی ہیں کہ ہم نے تم پر اس لئے روزے فرض کئے ہیں تا کہ تم ان قوموں کے اعتراضوں سے بچ جاؤ جو روزے رکھتی رہی ہیں، جو بھوک اور پیاس کی تکلیف کو برداشت کرتی رہی ہیں، جو موسم کی شدت کو برا دشت کر کے خدا تعالیٰ کو خوش کرتی رہی ہیں۔اگر تم روزے نہیں رکھو گے تو وہ کہیں گی کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم باقی قوموں سے روحانیت میں بڑھ کر ہیں لیکن وہ تقویٰ تم میں نہیں جو دوسری قوموں میں پایا جاتا تھا۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ میں دوسرا اشارہ اس امر کی طرف کیا گیا ہے کہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ روزے دار کا محافظ ہو جاتا ہے۔کیونکہ اتقاء کے معنے ہیں ڈھال بنانا، نجات کا ذریعہ بنانا، وقا یا بنانا وغیرہ ہیں۔پس اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ تم پر روزے رکھنے اس لئے فرض کئے گئے ہیں تا کہ تم خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالو اور ہر شر سے اور ہر خیر کے فقدان سے محفوظ رہو۔روزہ