خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 418
$2003 418 خطبات مسرور اٹھے۔روزے میں ذرا سی تھکاوٹ یا بھوک برادشت نہیں کر رہے ہوتے اس لئے روزے چھوڑ رہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو ایمان سے دور لے جانے والی ہیں اس لئے فرمایا ہے که ایمان مکمل طور پر تقویٰ اختیار کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور روزے رکھنے سے جس طرح کہ روزے رکھنے کا حق ہے، نوافل کے لئے اٹھو، نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرو، قرآن کریم کی با قاعدہ تلاوت کرو، اس کو سمجھنے کی کوشش کرو، اس سے تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو گا۔اور جب تقویٰ پیدا ہوگا تو اتنا ہی زیادہ تمہارا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا۔فرمایا کہ یہی ایمان اور تقویٰ میں ترقی کرنے کے گر ہیں کہ تم خدا کی خاطر اپنے آپ کو جائز چیزوں سے بھی روکو اور تم سے پہلے جو لوگ تھے، جو مذاہب تھے ان سب میں روزوں کا حکم تھا۔اور ان میں سے بھی وہی لوگ ایمان اور تقویٰ میں ترقی کرتے تھے جو اللہ کی خاطر اپنے روزہ رکھنے کے فرض کو بجالاتے تھے۔اور تمہارے لئے تو زیادہ بہتر رنگ میں اور زیادہ معین رنگ میں روزوں کا حکم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رضا کی خاطر روزے رکھنے والوں کی جزا بھی میں خود ہوں۔اور جس کا اجر ، جس کی جزا خدا تعالیٰ خود بن جائے اس کو اور کیا چاہئے۔لیکن شرط یہ ہے کہ روزے اس طرح رکھو جو روزے رکھنے کا حق ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں۔جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں رکھے اور اپنا محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئے جائیں گے اور اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ رمضان کی کیا کیا فضیلتیں ہیں تو تم ضرور اس بات کے خواہشمند ہوتے کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔تو یہاں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی یہ کہ ایمان کی حالت اور دوسری ہے محاسبہ نفس۔اب روزوں میں ہر شخص کو اپنے نفس کا بھی محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔دیکھتے رہنا چاہئے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اس میں میں جائزہ لوں کہ میرے میں کیا کیا برائیاں ہیں، ان کا جائزہ لوں۔ان میں سے کون کون سی برائیاں ہیں جو میں آسانی سے چھوڑ سکتا ہوں ان کو چھوڑوں۔کون کون سی نیکیاں ہیں جو میں نہیں کر سکتا یا میں نہیں کر رہا۔اور کون کون سی نیکیاں ہیں جو میں اختیار کرنے کی کوشش کرو۔تو اگر ہر شخص ایک دو نیکیاں اختیار کرنے کی کوشش کرے اور ایک دو برائیاں چھوڑنے کی کوشش کرے اور اس پر پھر قائم رہے تو سمجھیں کہ آپ نے رمضان کی برکات سے ایک بہت بڑی برکت سے فائدہ اٹھالیا۔