خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 404
خطبات مسرور 404 $2003 عمدہ عمدہ تالیفات میں سرگرم ہیں اور صاحبزادہ پیر جی سراج الحق صاحب نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کر کے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی۔اور میاں عبداللہ صاحب سنور کی اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی ، اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوئی اور منشی چوہدری نبی بخش صاحب بٹالہ ضلع گورداسپور اور منشی جلال الدین صاحب یلانی وغیرہ احباب اپنی اپنی طاقت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔میں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال دین اور امام دین کشمیری میرے گاؤں کے قریب رہنے والے ہیں۔یہ تینوں غریب بھائی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجو دقلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سور و پہیہ اس غریب نے شاید کئی برسوں میں جمع کیا ہوگا مگر یہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا“۔(انجام آتهم، روحانی خزائن جلد نمبر ١١ صفحه ٣١٣- ٣١٤) پھر آپ حضرت خلیفتہ المسیح اول کے متعلق فرماتے ہیں :- کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھاد دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں دیکھی جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدپہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں“۔میں لکھا کہ: المسیح نشان آسمانی روحانی خزائن جلد ٤ صفحه ٤٠٧) پھر حضرت خلیفتہ امیج اول، مولانا نور الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود کی خدمت ، میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے، میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیرو مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (٣٦)