خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 403
403 $2003 خطبات مسرور دا پتہ نئیں کی بنے؟۔تو یہ نمونے تھے۔پھر چند دن بعد یوں ہوا کہ یہی نور محمد صاحب ایک نیا کمبل اوڑھ کر بیت الذکر مغلپورہ میں نماز فجر کے لئے آئے تو دیکھا کہ فتح دین نامی ایک شخص جو کسی وقت بہت امیر تھا بیماری اور افلاس کے مارے ہوئے سردی سے کانپ رہے تھے۔تو نور محمد صاحب نے فوراً اپنا یا کمبل اتارا اور اسے اوڑھا دیا۔(روح پرور یادیں صفحہ ٦٨٧) پھر ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے وقت لاکھوں لٹے پٹے مہاجر لوگ قافلوں کی صورت میں قادیان کا رُخ کرتے تھے اور اس وقت انتہائی برے حالات تھے۔مسلمانوں کی عورتوں کی عزت و حرمت کی کوئی ضمانت نہیں تھی اور سب مسلمان یہ مجھتے تھے کہ قادیان پہنچ جائیں تو ہم محفوظ ہو جا ئیں گے۔تو اس وقت بھی جو بھی جماعت کے افراد وہاں موجود تھے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اس وقت وہاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں انچارج بنایا ہوا تھا تو سب آنے والوں کو جو بڑی کسمپرسی کی حالت میں وہاں پہنچے تھے۔بعض کپڑوں کے بھی بغیر تھے تو حضور نے سب سے پہلے اپنے گھر کے، خاندان والوں کے کپڑے نکالے بکسوں سے اور پھر ان کو دئے۔پھر وہیں سے قافلے ایک انتظام کے تحت روانہ ہوئے اور پاکستان پہنچتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے محفوظ طریقے سے پہنچتے رہے۔اور احمدیوں نے اپنی جانوں کو قربان کر کے ان لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں ایک یہ شرط بھی ہے کہ ہم اب اس عہد کے ساتھ جماعت میں شامل ہوتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اب ہمارا اپنا کچھ نہیں رہا۔اب سارے رشتے اور تمام تعلقات صرف اس وقت تک ہیں جب تک کہ وہ نظام جماعت اور حضور اقدس | کی ذات کے ساتھ وابستہ ہیں۔کوئی رشتہ، کوئی تعلق ہمیں حضور علیہ السلام سے دور نہیں لے جا سکتا۔ہم تو اُس دَر کے فقیر ہیں اور یہی ہمیں مقدم ہے۔پھر اس عہد کو نبھایا گیا اور خوب نبھایا۔اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتا ہوں اور اکثر ایسے ہیں جن کو زمانے کے امام نے خود اپنے الفاظ میں زبر دست خراج تحسین پیش کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- ”ایسا ہی ہمارے دلی محبت مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو اس سلسلہ کی تائید کے لئے