خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 405

خطبات مسرور 405 $2003 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ : تمی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب جو جو ان صالح اور کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق فہم آدمی ہے یعنی بڑی باریک نظر سے دیکھنے والے ہیں۔استقامت کے آثار و انوار ان میں ظاہر ہیں۔وفاداری کی علامات وغیرہ میں قسمت زدہ ہیں۔ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے۔اوران سے لذت اٹھاتا ہے۔اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے اور ادب، جس پر تمام مدار حصول فیض کا ہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیر تیں ان میں پائی جاتی ہیں یعنی فیض اٹھانا اور حسن ظن رکھنا۔جن کا یہ مجموعہ ہے یہ دونوں صفتیں ان میں پائی جاتی ہیں۔جزاھم اللہ خیر الجزاء۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت میاں عبداللہ سنوری کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ : حبی فی اللہ میاں عبداللہ سنوری یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھنچا گیا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لا سکتا۔یعنی کوئی ابتلا ان کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور میں ہمیشہ بنظر ایمان اس کی اندرونی حالت پر نظر ڈالتا رہا ہوں، یعنی میں بڑے غور سے دیکھتا رہا ہوں۔” تو میری فراست نے اس کی تہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان در حقیقت اللہ اور رسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتا ہے اور میرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کی بجز اس بات کے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے دل میں یقین ہو گیا ہے کہ یہ شخص محبان خدا اور رسول میں سے ہے۔66 (ازاله اوهام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه (۵۳۱ پھر حضرت منشی اروڑ ا صاحب کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جی فی اللہ منشی محمد اروڑا نقشہ نویس مجسٹریٹی۔منشی صاحب محبت اور خلوص اور ارادت میں زندہ دل آدمی ہیں۔سچائی کے عاشق اور سچائی کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں۔خدمات کو نہایت نشاط سے بجالاتے ہیں بڑی خوشی سے بجالاتے ہیں۔بلکہ وہ تو دن رات اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت مجھ سے صادر ہو جائے۔عزیز منشرح الصدر اور جانثار آدمی ہیں۔یعنی کھلے دل سے قبول کرنے والے اور جانثار آدمی ہیں۔میں خیال کرتا ہوں کہ ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے۔شاید ان کی اس سے بڑھ کر اور کسی بات میں خوشی نہیں ہوتی ہوگی کہ اپنی طاقتوں اور اپنے مال 66