خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 388
$2003 388 خطبات مسرور مثالوں سے ظاہر ہو گیا ہے آپ میں نام ونمود اور ریا ظاہر داری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا۔پھر علمی گھمنڈ اور تکبر بھی ہرگز نہیں تھا باوجودیکہ بڑے عالم آدمی تھے۔دوران قیام قادیان جب بھی کوئی کہتا' مولوی صاحب تو فور روک دیتے کہ مجھے مولوی مت کہو۔میں نے تو ابھی مرزا صاحب سے ابجد شروع کی ہے۔یعنی الف ب پڑھنی شروع کی ہے۔(ماهنامه انصار الله ربوه ستمبر ۱۹۷۷ء صفحه (۱۲ پھر فروتنی اور عاجزی کا ایک اور نمونہ جو سب نمونوں سے بڑھ کر ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہید کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ: بے نفسی اور انکسار میں اس مرتبہ تک پہنچ گئے تھے کہ جب تک انسان فنا فی اللہ نہ ہو یہ مرتبہ نہیں پا سکتا۔ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے۔اور اپنے تئیں کچھ مجھے لگتا ہے اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اس کو مانع ہو جاتی ہے۔( یعنی حق کو پہچاننے میں روک بنتی ہے )۔مگر یہ شخص ایسا بے نفس تھا کہ باوجود یکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اس کو اپنی علمی اور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔اور آخر سچائی پر اپنی جان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایک ایسا نمونہ چھوڑ گیا جس کی پابندی اصل منشاء خدا کا ہے۔( تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ٤٧) پھر دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے آٹھویں شرط میں یہ ہے کہ اپنی جان، مال، عزت ہر چیز کو قربان کرے گا۔اور جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے نظارے ہمیں نظر آتے رہتے ہیں۔مائیں اپنے بچے پیش کرتی ہیں، باپ سنت ابرا ہیمی پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی انگلی پکڑ کر لا رہے ہوتے ہیں کہ یہ اب جماعت کا ہے اور جہاں چاہے جماعت اس کی قربانی لے لے۔بچے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم بھی حضرت اسماعیل کی طرح اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔اور یہ نظارے پہلے بھی تھے اور اب بھی قائم ہیں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔۱۹۲۳ء میں ہندوؤں نے شدھی تحریک شروع کی تو اس کے خلاف احمد یہ جماعت کی کوششوں میں بچے بھی بڑوں سے پیچھے نہیں رہے۔پانچ سالہ بچے بھی ملکانہ کے علاقوں میں جانے