خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 387
$2003 387 خطبات مسرور بھی اس عاجز کے یکرنگ دوست ہیں۔(ازاله اوهام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۲ پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: جی فی اللہ نشی رستم علی ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے۔(ہمارے ملکوں میں پولیس کا محکمہ بہت بدنام ہے۔اس لحاظ سے اگر اس پس منظر میں دیکھیں تو پھر سمجھ آتی ہے )۔یہ ایک جوان صالح اخلاص سے بھرا ہوا میرے اول درجہ کے دوستوں میں سے ہے۔ان کے چہرے پر ہی علامات غربت و بے نفسی و اخلاص ظاہر ہیں۔کسی ابتلاء کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا۔اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے۔یعنی ترقی کی طرف ہی بڑھ رہے ہیں۔دیتا ہوں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۶) پھر اس میں تھا کہ تکبر سے پر ہیز کریں گئے۔اس بارہ میں سید محمد سرور شاہ صاحب کی مثال ’باوجود علم وفضل میں بہت بلند مقام رکھنے کے اس زمانہ کے دیگر نام نہاد علماء کے برعکس آپ کی طبیعت میں سادگی اور تواضع اس قدر تھا کہ اگر کسی وقت چھوٹے بچے نے بھی آپ سے بات کرنا چاہی تو بلا جھجک آپ سے ہمکلام ہو سکتا۔آپ بڑی محبت سے اس کی بات سنتے اور تسلی بخش طریق پر اس کے سوال کا جواب دیتے۔تو مولوی محمد حفیظ بقا پوری اپنے بچپن کا واقعہ سناتے ہیں کہ اس عاجز کے کسی قریبی رشتہ دار کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔خط کے ذریعہ ایسی اطلاع ملنے پر میں نے حضرت مولوی صاحب سے نومولود کا نام تجویز کرانے کا ارادہ کیا۔آپ شاید مسجد اقصیٰ میں درس دینے کے لئے جا رہے تھے یا واپس تشریف لا رہے تھے۔میں آگے بڑھا۔اس عاجز کو اپنی طرف آتا دیکھ کر رک گئے۔بڑی محبت سے التفات فرمایا اور میری درخواست پر نومولود کا نام تجویز فرما کر اس کے حق میں دعا فرمائی۔(اصحاب احمد جلد پنجم حصه سوم صفحه ۳۵) پھر اس بارہ میں حضرت مولوی برہان الدین صاحب کا ایک واقعہ ذکر کرتا ہوں۔پہلے بھی