خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 389

389 $2003 خطبات مسرور کے لئے تیار ہو گئے۔ایک بارہ سالہ بچے نے اپنے والد کولکھا کہ دین حق کی خدمت کرنا بڑوں کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔اس لئے جب آپ دعوت الی اللہ کے لئے جائیں تو مجھے بھی لے چلیں اور اگر آپ نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔(تاریخ احمدیت جلد نمبر ۵ صفحه ۳۳۶) تو یہ باتیں جیسا کہ میں نے پہلے کہا کوئی پرانے قصے ہی نہیں اب بھی یہ نظارے نظر آتے ہیں اور آج بھی واقفین نو بچے جب مجھے ملنے آتے ہیں اس ماحول میں بھی جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بڑے ہو کر کیا کرنا ہے، کیا بنا ہے۔یہی جواب ان کا ہوتا ہے کہ جو آپ کہیں گے ہم وہی بننے کی کوشش کریں گے۔اور جماعت بتائے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔یہ جذبہ ہے احمدی بچے کا۔اور جب تک یہ جذ بہ قائم رہے گا اور انشاء اللہ قیامت تک یہ جذ بہ قائم رہے گا۔تو جماعت کا کوئی بال بھی بر کا نہیں کرسکتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنادیا ہے اور اپنے ہم وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آکر آباد ہوئے ہیں۔(اصحاب احمد جلد پنجم حصه صفحه ۱۳۰) سوم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” جبی فی اللہ مولوی حکیم نور دین صاحب بھیروی۔ان کے مال سے جس قدر مجھے مدد پہنچی ہے میں کوئی ایسی نظیر نہیں دیکھتا جو اس کے مقابل پر بیان کرسکوں۔میں نے ان کو طبعی طور پر اور نہایت انشراح صدر سے دینی خدمتوں میں جان شار پایا ہے۔اگر چہ ان کی روز مرہ زندگی اسی راہ میں وقف ہے کہ وہ ہر ایک پہلو سے اسلام اور مسلمانوں کے بچے خادم ہیں مگر اس سلسلہ کے ناصرین میں سے وہ اول درجہ کے نکلے۔(ازاله اوهام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ٥٢٠) پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے بارہ میں فرماتے ہیں : ” ان کی عمر ایک معصومیت کے رنگ میں گزری تھی اور دنیا کے عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔نوکری بھی انہوں نے اسی