خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 350

350 $2003 خطبات مسرور کی جگہ بنادینا کوئی معمولی نیکی نہیں خصوصاً ایسی حالت میں اس نیکی کی قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے جبکہ صاحب خانہ کا رہن سہن کا معیار خاصا بلند ہو اور معاشرتی تعلقات کا دائرہ بہت وسیع ہو“۔اصحاب احمد جلد ۱۲ صفحه ۱۵۲-۱۵۳) پنجگانہ نماز کے التزام کے بارہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ حامد علی صاحب کے بارہ میں فرماتے ہیں : جی فی اللہ شیخ حامد علی۔یہ جوان صالح اور ایک صالح خاندان کا ہے اور قریباً سات آٹھ سال سے میری خدمت میں ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ مجھ سے اخلاص اور محبت رکھتا ہے۔اگر چہ دقائق تقویٰ تک پہنچنا بڑے عرفاء اور صلحاء کا کام ہے۔مگر جہاں تک سمجھ ہے اتباع سنت اور رعایت تقوی میں مصروف ہے۔میں نے اس کو دیکھا ہے کہ ایسی بیماری میں جو نہایت شدید اور مرض الموت معلوم ہوتی تھی اور ضعف اور لاغری سے میت کی طرح ہو گیا تھا۔التزام ادائے نماز پنجگانہ میں ایسا سرگرم تھا کہ اس بیہوشی اور نازک حالت میں جس طرح بن پڑے نماز پڑھ لیتا تھا۔میں جانتا ہوں کہ انسان کی خدا ترسی کا اندازہ کرنے کے لئے اس کے التزام نماز کو دیکھنا کافی ہے کہ کس قدر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو شخص پورے پورے اہتمام سے نماز ادا کرتا ہے اور خوف اور بیماری اور فتنہ کی حالتیں اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بے شک خدا تعالیٰ پر ایک سچا ایمان رکھتا ہے۔مگر یہ ایمان غریبوں کو دیا گیا دولتمند اس نعمت کو پانے والے بہت ہی تھوڑے ہیں“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳صفحه ۵۴۰) پھر یہ جو شرط ہے کہ بلاناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول ادا کرتا رہے گا۔اس کے بارہ میں ایک بزرگ مولوی فضل الہی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کاکیا نمونہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مرز ایوب بیگ صاحب سے بڑی محبت تھی۔ایک دن میں نے مغرب کی نما ز مرزا ایوب بیگ صاحب کے ڈیرے پر پڑھی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی وہیں تھے۔مرزا ایوب بیگ صاحب کی نماز الصَّلوةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِيْنَ کا رنگ رکھتی تھی۔جب نماز پڑھتے تھے تو دنیا کے خیالات سے لا پرواہ ہوتے اور ان کی آنکھوں سے آنسو گرا کرتے تھے۔اس دن انہوں نے غیر معمولی طور پر نماز لمبی پڑھی۔نماز کے بعد سب لوگ بیٹھ