خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 349
349 $2003 خطبات مسرور قادیان میں نمازوں اور تہجد کے التزام کے بارہ میں حضرت نواب محمد علی خان صاحب فرماتے ہیں کہ میں قادیان میں سورج گرہن کے دن نماز میں موجود تھا۔مولوی محمد احسن صاحب امروہوی نے نماز پڑھائی اور نماز میں شریک ہونے والے بے حد رور ہے تھے۔اس رمضان میں یہ حالت تھی کہ صبح دو بجے سے چوک احمدیہ میں چہل پہل ہو جاتی۔اکثر گھروں میں اور بعض مسجد مبارک میں آموجود ہوتے جہاں تہجد کی نماز ہوتی سحری کھائی جاتی اور اول وقت صبح کی نماز ہوتی اس کے بعد کچھ عرصہ تلاوت قرآن شریف ہوتی اور کوئی آٹھ بجے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کو تشریف لے جاتے۔سب خدام ساتھ ہوتے۔یہ سلسلہ کوئی گیارہ بارہ بجے ختم ہوتا۔اس کے بعد ظہر کی اذان ہوتی اور ایک بجے سے پہلے نماز ظہر ختم ہو جاتی اور پھر نماز عصر بھی اول وقت میں پڑھی جاتی۔بس عصر اور مغرب کے درمیان فرصت کا وقت ملتا تھا۔مغرب کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر آٹھ ساڑھے آٹھ بجے نماز عشاء ختم ہو جاتی اور ایسا ہو کا عالم ہوتا کہ گویا کوئی آباد نہیں مگر دو بجے رات سب بیدار ہوتے اور چہل پہل ہوتی “۔اصحاب احمد جلد ۲ صفحه (۷۷ پھر نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کے بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک روایت لکھی ہے کہ نماز کے عاشق تھے۔خصوصاً نماز با جماعت کے قیام کے لئے آپ کا جذبہ اور جد و جہد امتیازی شان کے حامل تھے۔بڑی باقاعدگی سے پانچ وقت مسجد میں جانے والے۔جب دل کی بیماری سے صاحب فراش ہو گئے تو اذان کی آواز کو ہی اس محبت سے سنتے تھے جیسے محبت کرنے والے اپنی محبوب آواز کو۔جب ذرا چلنے پھرنے کی سکت پیدا ہوئی تو بسا اوقات گھر کے لڑکوں میں سے ہی کسی کو پکڑ کر آگے کھڑا کر دیتے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے جذبہ کی تسکین کر لیتے۔یارتن باغ میں نماز والے کمرہ کے قریب ہی کرسی سرکا کر باجماعت نماز میں شامل ہو جایا کرتے۔جب ماڈل ٹاؤن والی کوٹھی میں گئے تو وہیں پنجوقتہ با جماعت نماز کا اہتمام کر کے گویا گھر کو ایک قسم کی مسجد بنا لیا۔پانچ وقت اذان دلواتے۔موسم کی مناسبت سے کبھی باہر گھاس کے میدان میں کبھی کمرے کے اندر چٹائیاں بچھوانے کا اہتمام کرتے اور بسا اوقات پہلے نمازی ہوتے جو مسجد میں پہنچ کر دوسرے نمازیوں کا انتظار کیا کرتا۔مختلف الانواع لوگوں کے لئے اپنی رہائش گاہ کو پانچ وقت کے آنے جانے