خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 351
351 $2003 خطبات مسرور گئے تو مرزا صاحب سے پوچھا گیا کہ آج نماز تو آپ نے بہت لمبی پڑھی ہے اس کی کیا وجہ ہے۔پہلے تو آپ نے نہ بتلایا مگر اصرار ہونے پر کہا کہ جب میں درود پڑھنے لگا تو مجھے کشف ہوا کہ آنحضرت ﷺ ایک پلیٹ فارم پر ٹہل رہے ہیں اور دعا مانگ رہے ہیں۔مرزا صاحب نے عربی الفاظ بھی بتلائے اور دعا کا ترجمہ بھی بتلایا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ اے خدا ! میری امت کو ضلالت سے بچا اور اس کی کشتی کو پار لگا۔میں اس دعا کے ساتھ آمین کہتا رہا۔پھر میں نے حضرت مسیح موعود صلى الله علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے خدا ! محمد رسول اللہ ﷺ کی دعائیں قبول فرما اور آپ کی امت کو گرداب ضلالت سے بچا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا ختم کی تو میں نے بھی نماز ختم کر دی۔اصحاب احمد جلد ۱ صفحه ١٩٤-١٩٥ تو یہ انقلاب ہے کہ جاگتے میں بھی دیدار ہورہا ہے۔پھر حضرت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب پر حضرت مسیح موعود کی بیعت کا کیا اثر ہوا۔اس بارہ میں ایک روایت یہ ہے بلکہ وہ خود ہی بتاتے ہیں کہ ہمارے والد صاحب نے اپنے دوست کو بتایا کہ جب میرے یہ دونوں لڑکے۱۸۹۲ء اور ۱۸۹۳ء کے موسم گرما کی تعطیلات میں میرے پاس بمقام مگر ہر ضلع ملتان میں آئے تو میں نے ان کی حالت میں ایک عظیم تبدیلی دیکھی جس سے میں حیران رہ گیا اور میں حیرت میں کہتا تھا کہ اے خدا! تو نے کون سے اسباب ان کے لئے میسر کر دئے جن سے ان کے دلوں میں ایسی تبدیلی ہوئی کہ یہ نُورٌ عَلی نور ہو گئے۔یہ ساری نمازیں پڑھتے ہیں اور ٹھیک وقت پر نہایت ہی شوق اور عشق اور سوز و گداز کے ساتھ اور نہایت رقت کے ساتھ کہ ان کی چیچنیں بھی نکل جاتیں۔اکثر ان کے چہروں کو آنسوؤں سے تر دیکھتا اور خشیت الہی کے آثار ان کے چہروں پر ظاہر تھے۔اس وقت ان دونوں بچوں کی بالکل چھوٹی عمر تھی۔داڑھی کا آغاز تھا۔میں ان کی اس عمر میں یہ حالت دیکھ کر سجدات شکر بجالاتا نہ تھکتا تھا اور پہلے جوان کی روحانی کمزوری کا بوجھ میرے دل پر تھا وہ اتر گیا۔پھر والد صاحب نے اس دوست سے کہا کہ ان کی اس غایت درجہ کی تبدیلی کا عقدہ مجھ پر نہ کھلا کہ اس چھوٹی سی عمر میں ان کو یہ فیض اور روحانی برکت کہاں سے ملی۔کچھ مدت کے بعد یہ معلوم