خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 330 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 330

$2003 330 خطبات مسرور کرے گا اور دلائل سے ہی صلیبی عقیدے کا قلع قمع کرے گا ، اس کی قلعی کھولے گا۔دجال کو قتل کرنے سے یہی مراد ہے کہ دجالی فتنوں سے امت کو بچائے گا۔پھر چونکہ مذہبی جنگوں کا رواج ہی نہیں رہے گا اس لئے ظاہر ہے کہ جزیہ کا بھی رواج اٹھ جائے گا۔اور پھر اس حدیث میں سلام پہنچانے کا بھی حکم ہے۔اور مسلمان سلام پہنچانے کی بجائے آنے والے مسیح کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔اللہ ہی انہیں عقل دے۔پھر ایک اور حدیث ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کا پتہ چلتا ہے کہ کیوں ہمیں آپ سے اطاعت کا تعلق رکھنا ضروری ہے۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب تک عیسی بن مریم جو منصف مزاج حاکم اور امام عادل ہوں گے معبوث ہو کر نہیں آتے قیامت نہیں آئے گی۔( جب وہ معبوث ہوں گے تو وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کے دستور کوختم کریں گے اور ایسا مال تقسیم کریں گے جسے لوگ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔(سنن ابن ماجه كتاب الفتن باب فتنه الدجال و خروج عیسی بن مریم و خروج ياجوج و ماجوج تو اس حدیث میں بھی چونکہ سمجھنے کی ضرورت تھی، موٹی عقل کے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی اور وہ ظاہری معنوں کے پیچھے چل پڑے۔عجیب مضحکہ خیز قسم کی تشریح کرتے ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ خنزیر کو قتل کرنے سے مرادختر بر صفت لوگوں کا قلع قمع کرنا ہے۔سوروں کی برائیاں، باقی جانوروں کی نسبت تو اب ثابت شدہ ہیں۔تو وہی برائیاں جب انسانوں میں پیدا ہو جائیں تو ظاہر ہے کہ ان کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔پھر یہ ہے کہ وہ مال دیں گے، مال تقسیم کریں گے۔تو ذہن میں آیا کہ ابھی چند دن پہلے پاکستان میں علماء نے جلسہ کیا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف، جماعت کے خلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے ایک یہ بھی سوال اٹھایا کہ مسیح نے آ کر تو مال تقسیم کرنا تھا نہ کہ لوگوں سے مانگنا تھا۔دیکھو احمدی (وہ تو قادیانی کہتے ہیں ) چندہ وصول کرتے ہیں۔اس سے ثابت ہوا کہ یہ جھوٹے ہیں وہ یہ ثابت کر رہے ہیں۔اب ان عقل کے اندھوں کو کوئی عقلمند آدمی سمجھا نہیں سکتا کہ مسیح جو روحانی خزائن بانٹ رہا ہے تم اس کو لینے سے بھی انکاری ہو چکے ہو۔اصل میں بات یہی ہے کہ ان کی دنیا کی ایک آنکھ ہی ہے۔اور اس سے آگے یہ لوگ بڑھ بھی نہیں سکتے۔ان