خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 329
$2003 329 خطبات مسرور اسی ذریعہ سے آنحضرت میلہ کی اتباع کرو گے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرو گے۔آپ یہ بات یونہی نہیں فرمار ہے بلکہ رسول خداع خود ہمیں یہ بات فرما چکے ہیں جیسے کہ فرمایا کہ اگر مسیح اور مہدی کا زمانہ دیکھو تو اگر گھٹنوں کے بل تمہیں جانا پڑے تو جا کر میرا سلام کہنا۔اتنی تاکید سے، اتنی تکلیف میں ڈال کر یہ پیغام پہنچانے میں کیا بھید ہے، کیا راز ہے۔یہی کہ وہ میرا پیارا ہے اور میں اس کا پیارا ہوں۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ پیاروں تک پہنچ پیاروں کے ذریعہ ہی ہوتی ہے۔اس لئے اگر تم میری اتباع کرنے والے بننا چاہتے ہو تو مسیح موعود کی اتباع کرو، اس کو امام تسلیم کرو، اس کی جماعت میں شامل ہو۔اس لئے حدیث میں آتا ہے۔روایت ہے کہ خبر دار ہو کہ عیسی بن مریم (مسیح موعود ) اور میرے درمیان کوئی نبی یا رسول نہیں ہوگا۔خوب سن لو کہ وہ میرے بعد امت میں میرا خلیفہ ہوگا۔وہ ضرور دجال کو قتل کرے گا۔صلیب کو پاش پاش کرے گا یعنی صلیبی عقیدے کو پاش پاش کر دے گا اور جزیہ ختم کر دے گا“۔(اس زمانے میں جو آپ ہی کا زمانہ ہے اس کا رواج اٹھ جائے گا کیونکہ اس وقت مذہبی جنگیں نہیں ہوں گی۔جزیہ کا رواج اُٹھ جائے گا۔یاد رکھو جسے بھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو وہ انہیں میرا اسلام ضرور پہنچائے“۔طبراني الاوسط و الصغير اس حدیث پر غور کرنے کی بجائے اور جنہوں نے غور کیا ہے، اس کی تہ تک پہنچے ہیں ان کی بات سمجھنے کے بجائے آج کل کے علماء اس کے ظاہری معنوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو اس طرح غلط راستے پر ڈال دیا ہوا ہے اور وہ طوفان بدتمیزی پیدا کیا ہوا ہے کہ خدا کی پناہ۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی پناہ ہی ڈھونڈتے ہیں، وہ ان سے نمٹ بھی رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی نمٹے گا۔اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود منصف مزاج حاکم ہوگا جس نے انصاف کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرنی اور ایسا امام ہے جس نے عدل کو دنیا میں قائم کرنا ہے اس لئے اس سے تعلق جوڑنا، اس کے حکموں پر چلنا، اس کی تعلیم پر عمل کرنا کیونکہ اس نے انصاف اور عدل ہی کی تعلیم دینی ہے اور وہ سوائے قرآنی تعلیم کے اور کوئی ہے ہی نہیں۔تو آج کل اب لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ صلیب کو توڑنے کے پیچھے چل پڑے ہیں کہ ہتھوڑے لے کر مسیح آئے گا اور صلیب تو ڑے گا۔یہ سب فضول باتیں ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ وہ آنے والا مسیح اپنے آقا اور مطاع کی پیروی میں دلائل سے قائل