خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 331
$2003 331 خطبات مسرور کا یہ کام ہے، ان کو کرنے دیں، پاکستانی احمدیوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ان کے گند اور لغویات سن کر صبر دکھاتے ہوئے ، حوصلہ دکھاتے ہوئے ، منہ پھیر کر گزر جایا کریں۔ان کے گند کے مقابلے میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی ہم اپنی ہار مانتے ہیں۔ہم ان کے گند کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔لیکن ایک بات بتا دوں، واضح کر دوں کہ جب نہیں بولتا بندہ تو خدا بولتا ہے اور جب خدا بولتا ہے تو مخالفین کے ٹکڑے ہوا میں بکھرتے ہوئے ہم نے دیکھے ہیں اور آئندہ بھی دیکھیں گے انشاء اللہ۔پس احمدی مسیح موعود سے سچا تعلق قائم رکھیں اور دعاؤں پر زور دیں، ہر وقت دعاؤں میں لگے رہیں۔تو ان حدیثوں سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ آنے والا مسیح امام بھی ہوگا، کا کم بھی ہوگا، عدل وانصاف کا شہزادہ ہوگا تو اس سے تعلق ضرور جوڑنا اور اس حکم اور امام کی حیثیت سے اطاعت بھی تم پر ضروری ہے اس لئے تمہاری بہتری کے لئے تمہاری تربیت کے لئے یہ باتیں جو بتائی ہیں ان پر عمل کرو۔تا کہ آنحضرت ﷺ کے پیارو میں بھی شامل ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کے قرب پانے والوں میں بھی شامل ہو جاؤ۔اطاعت کے موضوع پر اب چند احادیث پیش کرتا ہوں جن سے اطاعت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: تنگدستی اور خوشحالی ، خوشی اور نا خوشی ، حق تلفی اور ترجیحی سلوک ،غرض ہر حالت میں تیرے لئے حاکم وقت کے حکم کو سنا اور اطاعت کرنا واجب ہے۔(مسلم كتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا: جو شخص اپنے سردار اور امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اسے پسند نہ ہو تو صبر سے کام لے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی دور ہوتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔(بخاری کتاب الفتن۔باب قول النبى سترون بعد ى اموراً) پھر حضرت عرفجہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم ایک ہاتھ پر جمع ہو اور تمہارا ایک امیر ہو اور پھر کوئی شخص آئے اور تمہاری وحدت کی اس لاٹھی کو