خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 275

خطبات مسرور 275 تمہیں آگ کے عذاب سے بچالوں گا۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔$2003 حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا وہ آگ میں داخل نہ ہوگا۔(سنن ابن ماجه كتاب الزهد ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رسوا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔شیطان بھی موحد ہونے کا دم مارتا تھا مگر چونکہ اس کے سر میں تکبر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا۔جب اس نے تو ہین کی نظر سے دیکھا اور اس کی نکتہ چینی کی اس لئے وہ مارا گیا اور طوق لعنت اس کی گردن میں ڈالا گیا۔سو پہلا گناہ جس سے ایک شخص ہمیشہ کیلئے ہلاک ہوا تکبر ہی تھا۔“ (آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۸ پھر فرماتے ہیں: ”اگر تمہارے کسی پہلو میں تکبر ہے یا ریا ہے یا خود پسندی ہے یا کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو کہ قبول کے لائق ہو۔ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھو کہ دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا ہے۔کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا نقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲-۱۳) پھر فرماتے ہیں: ”ہاں ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میں ہوتے ہیں جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے۔یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنادیتا ہے۔جب تک انسان اس سے دور نہ ہو۔یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔نہ علم کے لحاظ سے، نہ دولت کے لحاظ سے، نہ وجاہت کے لحاظ سے، نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے۔کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا۔اس وقت تک وہ خدا