خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 276
276 $2003 خطبات مسرور تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے موادر ڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ بعض بنیادی چیزیں ہیں اور ان کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔اور ان سے بچو۔بعض لوگ دو چار دن نماز پڑھ کے سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے نیک ہو گئے ہیں۔چہرے پر عجیب قسم کی سنجیدگی کے ساتھ رعونت بھی طاری ہوجاتی ہے۔اور آپ نے دیکھا ہوگا بعض دفعہ بعض جبہ پوشوں کو کہ ہاتھ میں تسبیح لے کر مسجدوں سے نکل رہے ہوتے ہیں۔ان کی گردن پر ہی فخر اور غرور نظر آ رہا ہوتا ہے۔شکر ہے، اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکر ہے کہ جماعت احمد یہ ایسے جبہ پوشوں سے پاک ہے۔پھر حج کر کے آتے ہیں اتنا پروپیگنڈہ اس کا ہورہا ہوتا ہے کہ انتہا نہیں۔ایسے لوگوں کے دکھاوے کے روزے ہوتے ہیں اور دکھاوے کا حج ہوتا ہے۔صرف بڑائی جتانے کے لئے یہ سب ہوتا ہے کہ لوگ کہیں کہ فلاں بڑا نیک ہے۔بڑے روزے رکھتا ہے، حاجی ہے، بہت نیک ہے۔تو یہ سب دکھاوے تکبر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں یا دکھاوے کی وجہ سے تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ اپنی ذات پات کی وجہ سے تکبر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری ذات بہت اونچی ہے۔فلاں تو کمی کمین ہے وہ ہمارا کہاں مقابلہ کر سکتا ہے۔تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ تکبر کی کئی قسمیں ہیں جو تمہیں خدا تعالیٰ کی معرفت سے دور لے جاتی ہیں، اس کے قرب سے دور لے جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ انسان شیطان کی جھولی میں گر جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” پس میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے نہ علمی نہ خاندانی نہ مالی۔جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جوان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ ، ایمان ، عبادت،طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔