خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 274
$2003 274 خطبات مسرور ذلیل سمجھے، ان کو حقارت کی نظر سے دیکھے اور ان سے بری طرح پیش آئے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحريم الكبر وبيانه صلى الله پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ اور جنت کی آپس میں بحث اور تکرار ہوگئی۔دوزخ نے کہا کہ مجھ میں بڑے بڑے جابر اور متکبر داخل ہوتے ہیں اور جنت کہنے لگی کہ مجھ میں کمزور اور مسکین داخل ہوتے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو فرمایا کہ تو میرے عذاب کی مظہر ہے۔جسے میں چاہتا ہوں تیرے ذریعہ عذاب دیتا ہوں۔اور جنت سے کہا تو میری رحمت کی مظہر ہے جس پر میں چاہوں تیرے ذریعہ رحم کرتا ہوں۔اور تم دونوں میں سے ہر ایک کو اس کا بھر پور حصہ ملے گا۔(صحیح مسلم كتاب الجنة باب الناريدخلها الجبارون۔۔۔۔۔۔اللہ کرے کہ ہر احمدی عاجزی، مسکینی اور خوش خلقی کی راہوں پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحم کی نظر حاصل کرنے والا ہو، اللہ تعالیٰ کی جنت میں جانے والا ہواور ہر گھر تکبر کے گناہ سے پاک ہو۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابوسعید خدری ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عزت اللہ تعالیٰ کا لباس اور کبریائی اس کی چادر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پس جو کوئی بھی انہیں مجھ سے چھینے کی کوشش کرے گا میں اسے عذاب دوں گا۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم الكبر تو تکبر آخر کار انسان کو خدا کے مقابل پر کھڑا کر دیتا ہے۔جب خدا کا شریک بنانے والے کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ معاف نہیں کروں گا تو پھر جو خود خدائی کا دعویدار بن جائے اس کی کس طرح بخشش ہوسکتی ہے۔تو یہ تکبر ہی تھا جس نے مختلف وقتوں میں فرعون صفت لوگوں کو پیدا کیا اور پھر ایسے فرعونوں کے انجام آپ نے پڑھے بھی اور اس زمانہ میں دیکھے بھی۔تو یہ بڑا خوف کا مقام ہے۔ہر احمدی کو ادنیٰ سے تکبر سے بھی بچنا چاہئے کیونکہ یہ پھر پھیلتے پھیلتے پوری طرح انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ وارننگ دے دی ہے، واضح کر دیا ہے کہ یہ میری چادر ہے، میں رب العالمین ہوں، کبریائی میری ہے، اس کو تسلیم کرو، عاجزی دکھاؤ۔اگر ان حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرو گے تو عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے۔اگر رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہے تو عذاب تمہارا مقدر ہے لیکن ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دے دی کہ اگر ذرہ بھر بھی تمہارے اندر ایمان ہے تو میں