خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 265

265 $2003 خطبات مسرور ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: سنا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔خواہ وہ امر اس کو پسند ہو یا نا پسند۔یہاں تک کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔اور اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی جائے۔(صحیح بخاری كتاب الأحكام باب السمع والطاعة لامام۔۔۔۔۔۔تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ سوائے اس کے کہ شریعت کے واضح احکام کی خلاف ورزی ہو۔ہر حال میں اطاعت ضروری ہے اور اس حدیث میں بھی یہی ہے۔یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تم گھر بیٹھے فیصلہ نہ کر لو کہ یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اور یہ حکم نہیں۔ہو سکتا ہے تم جس بات کو جس طرح سمجھ رہے ہو وہ اس طرح نہ ہو۔کیونکہ الفاظ یہ ہیں کہ معصیت کا حکم دے، گناہ کا حکم دے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ کوئی ایسا شخص عہدیدار بن ہی نہیں سکتا جو اس حد تک گر جائے اور ایسے احکام دے۔تو بات صرف اس حکم کو سمجھنے، اس کی تشریح کی رہ گئی۔تو پہلے تو خود اس عہدیدار کو توجہ دلاؤ۔اگر نہیں مانتا تو اس سے بالا جو عہد یدار ہے، افسر ہے،امیر ہے، اس تک پہنچاؤ۔اور پھر خلیفہ وقت کو پہنچاؤ۔لیکن اگر یہ تمہارے نزدیک برائی ہے تو پھر تمہیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ باہر اس کا ذکر کرتے پھرو۔کیونکہ برائی کو تو وہیں روک دینے کا حکم ہے۔اب تمہارا یہ فرض ہے کہ نظام بالا تک پہنچاؤ اور اس کا فیصلے کا انتظار کرو۔حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں: وو ” یہ جو امارت اور خلافت کی اطاعت کرنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ امیر یا خلیفہ کا ہر ایک معاملہ میں فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔کئی دفعہ کسی معاملہ میں وہ غلطی کر جاتے ہیں۔مگر باوجود اس کے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر ا نتظام قائم نہیں رہ سکتا۔تو جب رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بھی غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ یا امیر کی کیا طاقت ہے کہ کہے میں کبھی کسی امر میں غلطی نہیں کر سکتا۔خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے لیکن باوجود اس کے اُس کی اطاعت کرنی لازمی ہے ورنہ سخت فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔مثلاً ایک جگہ وفد بھیجنا ہے۔خلیفہ کہتا ہے کہ بھیجنا ضروری ہے لیکن ایک شخص کے نزدیک ضروری نہیں۔ہو سکتا ہے کہ فی الواقع ضروری نہ ہولیکن اگر اس کو اجازت ہو کہ وہ خلیفہ کی رائے نہ مانے تو اس طرح انتظام ٹوٹ جائے گا جس کا