خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 266

$2003 266 خطبات مسرور نتیجہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔تو انتظام کے قیام اور درستی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی رائے پر زور نہ دیا جائے۔جہاں کی جماعت کا کوئی امیر مقرر ہو وہ اگر دوسروں کی رائے کو مفید نہیں سمجھتا تو انہیں چاہئے کہ اپنی رائے کو چھوڑ دیں۔اسی طرح جہاں انجمن ہو وہاں کے لوگوں کو سیکرٹری کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہئے۔جہاں تک ہو سکے سیکرٹری یا امیر کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسے سمجھانا چاہئے لیکن اگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے تو دوسروں کو اپنی رائے چھوڑ دینی چاہئے۔کیونکہ رائے کا چھوڑ دینا فتنہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں بہت ضروری ہے۔اطاعت امیر کے بارہ میں آنحضرت میے کے مختلف ارشادات سنے ہیں۔لیکن ایک یہ حدیث ہے جو مزید خوف دلوں میں پیدا کرتی ہے۔ہر احمدی کو ہمیشہ یہ باتیں ہر وقت اپنے ذہن میں رکھنی چاہئیں۔کہ اطاعت امیر کس قدر ضروری ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔(صحیح مسلم كتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية وتحريمها في المعصية) تو کون ہے ہم میں سے جو یہ پسند کرتا ہو کہ ہم آنحضرت مہ کے دائرہ اطاعت سے باہر نکلیں۔کوئی احمدی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔پس جب یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تو پھر عہد یداران کی، امراء کی اطاعت خالصتا للہ اپنے اوپر واجب کر لیں۔اور اگر نظام جماعت پر حرف آتے ہوئے دیکھیں تو آپ کے لئے راستہ کھلا ہے خلیفہ وقت تک بات پہنچائیں اور مناسب ہے کہ اس عہد یدار کے ذریعہ سے ہی بھجوائیں۔بغیر نام کے شکایت پر غور نہیں ہوتا۔اگر اصلاح چاہتے ہیں تو کھل کر سامنے آنا چاہئے۔لیکن یا درکھیں ! آپ کو یہ قطعاً اجازت نہیں ہے کہ کسی بھی عہدیدار کی نافرمانی کریں۔اگر کوئی ایسی صورت ہے تو پھر حدیث کی روشنی میں آپ عہدیدار سے عدم تعاون کر کے ،ان کی نافرمانی کر کے ، خلیفہ وقت کی نافرمانی کر رہے ہیں۔اور پھر یہ سلسلہ اوپر تک بڑھتا چلا جائے گا۔پس ہر ایک کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اس عہد پر قائم رہے کہ وہ ہر قربانی کے لئے تیار رہے گا۔