خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 250
$2003 250 خطبات مسرور رعایت رکھی جو بطور نشان کے ہوگئی۔مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ﴾ (الطلاق:۴)۔( بدر ۲ فروری ١٩٠٦ء ، ملفوظات جلد چهارم صفحه ٦٣٦ - ٧٣٦) پھر میاں بیوی کے جھگڑے ہیں یہ بھی تو کل میں کمی کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عورتوں میں قناعت کا مادہ کم ہوتا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ اپنے خاوند کی جیب کو دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ کھولے، اپنے دوستوں سہیلیوں یا ہمسایوں کی طرف دیکھتی ہیں جن کے حالات ان سے بہتر ہوتے ہیں۔اور پھر خرچ کر لیتی ہیں، پھر خاوندوں سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اور دو۔پھر آہستہ آہستہ یہ حالت مزید بگڑتی ہے اور اس قدر بے صبری کی حالت اختیار کر لیتی ہے کہ بعض دفعہ باوجود اس کے کہ دو دو تین تین بچے بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس بے صبری کی قناعت کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو کل نہ ہونے کی وجہ سے۔کیونکہ ایسے لوگ صرف دنیا داری کے خیالات سے ہی اپنے دماغوں کو بھرے رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر اس وجہ سے یقین بھی کم ہو جاتا ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ پر یقین نہ ہو تو پھر اس کے سامنے جھکتے بھی نہیں ، اس سے دعا بھی نہیں کرتے۔تو یہ ایک سلسلہ جب چلتا ہے تو پھر دوسرا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔اور پھر جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والے نہ ہوں ان پر تو کل کیسے رہ سکتا ہے۔تو ایسی عورتیں پھر اپنے گھروں کو برباد کر دیتی ہیں۔خاوندوں سے علیحدہ ہونے کے مطالبے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک برائی سے دوسری برائی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے لیکن یہ صرف عورتوں کی حد تک نہیں ہے بلکہ ایسے مرد بھی ہیں جن کو میں کہوں گا کہ جن میں غیرت کی کمی ہے جو اپنی بیوی سے مطالبے کر رہے ہوتے ہیں کہ تم جہیز میں جو زیور لائی ہو مجھے دو تاکہ میں کاروبار کروں۔یا جور تم اگر نقد ہے تو وہ مجھے دوتا کہ میں اپنے کاروبار میں لگاؤں۔اگر تو میاں بیوی کے تعلقات محبت اور پیار کے ہیں تو آپس میں افہام و تفہیم سے عورتیں دے بھی دیتی ہیں۔لیکن اگر عورت کو پتہ ہو کہ میرا خاوند نکھٹو ہے، اس میں اتنی استعداد ہی نہیں ہے کہ وہ کا روبار کر سکے اور یہ احساس ہو کہ کچھ عرصہ بعد میرا جو اپنا سرمایہ ہے، رقم ہے وہ بھی جاتی رہے گی اور گھر میں پھر فاقہ زدگی پیدا ہو جائے گی اور وہی حالات ہو جائیں گے تو وہ نہیں دیتیں اور اس سے لڑائی جھگڑے بڑھتے ہیں۔پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ تھوڑی بے غیرتی کی حد آگے بھی چلی جاتی ہے جب ایک دفعہ بے غیرت انسان ہو جائے تو یہ مطالبہ ہو جاتا ہے کہ بیوی کو کہا جاتا ہے کہ