خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 249 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 249

$2003 249 خطبات مسرور فیصلہ کروالیا۔اور اس کے علاوہ پھر افسروں کی خوشامد ہے۔یہ اس قدر گر کرنا جائز حد تک جی حضوری کی عادت پیدا ہو جاتی ہے کہ دوسروں کو دیکھ کر بھی اس سے کراہت آرہی ہوتی ہے کہ اس نے اپنے افسر کو خدا بنالیا ہے۔اپنا رازق ایسے لوگ اپنے افسروں کو ہی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ذرا سا بھی تو کل نہیں ہوتا۔اس پر یقین ہی نہیں ہوتا اور پھر آہستہ آہستہ ایسے لوگ بندے کو بھی خدا کا درجہ دے دیتے ہیں۔تو دیکھیں غیر محسوس طریقے سے جھوٹ اور جھوٹی خوشامد شرک کی طرف لے جاتی ہے اور پھر اس طرف دھیان ہی نہیں جاتا کہ وہ سمیع وعلیم خدا بھی ہے جو میرے حالات بھی جانتا ہے، جس کے آگے میں جھکوں، اپنی تکالیف بیان کروں، اپنے معاملات پیش کروں۔تو وہ دعاؤں کو سننے والا ہے، وہی میری مدد کرے گا، اور مشکلات سے نکالے گا اور نکالنے کی طاقت رکھتا ہے۔اور اسی پر میں تو کل کرتا ہوں تو یہ باتیں پھر جھوٹوں اور خوشامدیوں کے دماغوں میں کبھی آہی نہیں سکتیں۔پس ہر احمدی کو ان باتوں سے پر ہیز کرنا چاہئے۔اور اس طریق پر چلنا چاہئے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے ہمیں بتائے اور جن کو اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل سے ہمارے سامنے رکھا۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” مجھے یاد ہے میں نے ایک مرتبہ امرتسر ایک مضمون بھیجا۔اس کے ساتھ ہی ایک خط بھی تھا۔رلیا رام کے وکیل ہند اخبار کے متعلق تھا۔میرے اس خط کو خلاف قانون ڈاکخانہ قراردے کر مقدمہ بنایا گیا۔وکلاء نے بھی کہا کہ اس میں بجز اس کے رہائی نہیں جو اس خط سے انکار کر دیا جاوے، گویا جھوٹ کے سوا بچاؤ نہیں۔مگر میں نے اس کو ہرگز پسند نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ اگر ریچ بولنے سے سزا ہوتی ہے تو ہونے دو، جھوٹ نہیں بولوں گا۔آخر وہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ڈاکخانوں کا افسر بحیثیت مدعی حاضر ہوا۔مجھ سے جس وقت اس کے متعلق پوچھا گیا تو میں نے صاف طور پر کہا کہ یہ میرا خط ہے مگر میں نے اس کو جزو مضمون سمجھ کر اس میں رکھا ہے۔مجسٹریٹ کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بصیرت دی۔ڈاکخانوں کے افسر نے بہت زور دیا مگر اس نے ایک نہ سنی اور مجھے رخصت کر دیا۔میں کیونکر کہوں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔ایسی باتیں نری بیہودگیاں ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ سچ کے بغیر گزارہ نہیں۔میں اب تک بھی جب اپنے اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو ایک مزا آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پہلو کو اختیار کیا۔اس نے ہماری رعایت رکھی اور ایسی