خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 238
خطبات مس $2003 238 تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی ﴿وَإِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ﴾ (الانفال (٦١) دنیا میں سب سے زیادہ تو کل اللہ تعالیٰ انبیاء میں پیدا کرتا ہے اور ان کو خود تسلی دیتا ہے کہ تم فکر نہ کرومیں ہر معاملے میں تمہارے ساتھ ہوں۔کوئی دشمن تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔میں تم میں اور دیکھنے والا ہوں اگر دشمن نے غلط نظر سے دیکھنے کی کوشش کی یا کوئی سازش کرنے کی کوشش کی تو میں جو ہر بات کا علم رکھنے والا اور تیری دعاؤں کو سننے والا ہوں خود اس کا علاج کرلوں گا۔اور اس طرح باقی روز مرہ کے معاملات میں بھی انبیاء کا تو کل بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس یقین پر قائم ہوتے ہیں کہ خدا ہر قدم پر ان کے ساتھ ہے، ہر معاملے میں ان کے ساتھ ہے اور پھر اسی طرح روحانی مدارج اور مقام کے لحاظ سے تو کل کے معیار آگے مومنین میں قائم ہوتے چلے جاتے ہیں تو جو آیت ابھی میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے : اور اگر وہ صلح کے لئے جُھک جائیں تو تو بھی اُس کے لئے جھک جا اور اللہ پر توکل کر۔یقینا وہی بہت سننے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔تفسیر روح المعانی میں علامہ شہاب الدین آلوسی اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ : وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ ﴾ سے یہ مراد ہے کہ اپنا معاملہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپر د کر دے اور اس امر سے خائف نہ ہو۔اگر وہ تیرے لئے اپنے باز وسلامتی کے لئے جھکا ئیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے باز و مکر اور سازشوں سے لیٹے ہوئے ہوں۔ان سے مراد اللہ جل شانہ ہے۔هُوَ السَّمِيعُ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دھوکہ دہی کی ان تمام باتوں کو جو وہ علیحد گیوں میں