خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 233
$2003 233 خطبات مسرور اگر نظام کے خلاف باتیں ہورہی ہوں تو یہاں اجازت ہے کہ چاہے وہ اگر نظام کے متعلق ہے یا نظام کے کسی عہدیدار کے متعلق ہیں اور اس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اس میں کئی اعتراض کے پہلو ابھر سکتے ہیں، نکل سکتے ہیں تو اس کو افسران بالا تک پہنچانا چاہئے۔اور ایک حدیث میں اس کی اس الله طرح اجازت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجالس کی گفتگو امانت ہے سوائے تین مجالس کے۔ایسی مجلس جہاں ناحق خون بہانے والوں کے باہمی مشورہ کی مجلس ہو۔پھر وہ مجلس جس میں بدکاری کا منصوبہ بنے۔اور پھر وہ مجلس جس میں کسی کا مال ناحق دبانے کا منصو بہ بنایا جائے۔تو جہاں ایسی سازشیں ہو رہی ہوں جس سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، ایسی باتیں سن کر متعلقہ لوگوں تک یا افسران تک پہنچانا یہ امانت ہے۔ان کو نہ پہنچانا خیانت ہو جائے گی۔تو نظام کے متعلق جو باتیں ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں کہ اگر کوئی نظام کے خلاف بات کر رہا ہو اور بالا افسران تک نہ پہنچائیں۔پھر بعض دفعہ عہدیداران کے خلاف شکایات پیدا ہوتی ہیں تو بعض اوقات یہ صرف غلط نہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔یا بعض دفعہ کسی نے اپنے ذاتی بغض کی وجہ سے کسی عہدیدار کے ساتھ ہے اپنے ماحول میں بھی لوگ اس عہد یدار کے خلاف باتیں کر کے لوگوں کو اس کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسی صورت میں بھی آپ کو چاہئے کہ امانتیں ان کے صحیح حقداروں تک پہنچا ئیں۔یعنی باتیں بالا افسران تک ، عہد یدارن تک، نظام تک پہنچائیں۔لیکن تب بھی یہ کوئی حق نہیں پہنچتا بہر حال کہ ادھر ادھر بیٹھ کر باتیں کی جائیں۔بلکہ جس کے خلاف بات ہورہی ہے مناسب تو یہی ہے کہ اگر آپ کی اس عہد یدار تک پہنچ ہے تو اس تک بات پہنچائی جائے کہ تمہارے خلاف یہ باتیں سننے میں آرہی ہیں۔اگر صحیح ہیں تو اصلاح کر لو اور اگر غلط ہے تو جو بھی صفائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہو کر و۔پھر کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ باتیں صحیح ہیں یا غلط یہ غیبت یا جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں۔اور غیبت کرنے والوں کو اس حدیث کو یا درکھنا چاہئے کہ اگلے جہان میں ان کے ناخن تانبے کے ہو جائیں گے جس سے وہ اپنے چہرے اور سینے کا گوشت نوچ رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔