خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 234
$2003 234 خطبات مسرور ہم اُسی وقت بچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اُس کو واپس دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔ہماری جان اُس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے 66 تُؤَدُّوا و الا منتِ إِلَى أَهْلِهَا “ (تفسیر فرموده حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحه ۲۴۵، جدید ایڈیشن۔مطبوعه ربوه) آپ مزید فرماتے ہیں: نہیں رکھتا۔امانتوں کو ان کے حقداروں کو واپس دے دیا کرو۔خدا خیانت کرنے والوں کو دوست پھر آپ نے فرمایا: مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارہ میں کوئی دقیقہ تقویٰ اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قومی اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اور ہاتھوں اور پیروں کی قوت یہ سب خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں جو اس نے ہمیں دی ہیں اور جس وقت چاہے اپنی امانت کو واپس لے سکتا ہے۔پس ان تمام امانتوں کی رعایت رکھنا یہ ہے کہ بار یک در بار یک تقویٰ کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اس کے تمام قوئی اور جسم اور اس کے تمام قومی اور جوارح سے لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں۔اور اُس کی مرضی اس کی نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے موافق ان تمام قومی اور اعضاء کا حرکت اور سکون ہو۔اور اس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ اس میں کام کرے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اس کا نفس ایسا ہو جیسا کہ مردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اور یہ خودرائی سے بے دخل ہو (یعنی اپنا وجود ہی نہ ہو )۔اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پر ہو جائے۔یہاں تک کہ اُسی سے دیکھے اور اُسی سے سنے اور اُسی سے بولے اور اسی سے حرکت یا سکون کرے۔اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خوردبین سے بھی نظر نہیں آسکتیں دور ہو کر فقط روح رہ جائے۔غرض مہیمنت خدا کی اس کا احاطہ کر لے۔( یعنی انسان خدا تعالیٰ کے مکمل طور پر قبضہ میں ہو )۔اور اپنے وجود سے اس