خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 208

$2003 208 خطبات مسرور الہام نے خود ہی اس کی تفصیل کر دی ہے۔(تذکره صفحه ٤٤٩ - ٤٥٠ مطبوعه ١٩٦٩ء) پھر ۱۹۰۳ء کا ہی ایک الہام ہے۔وَإِنَّهُ بَشَّرَنِيْ وَقَالَ لَا أُبْقِي لَكَ فِي الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا۔وَقَالَ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ الْوَلِيُّ الرَّحْمَنُ - ترجمہ: اور اس نے مجھے بشارت دی اور فرمایا میں تیرے متعلق رسوا کن باتوں کا ذکر تک نہیں چھوڑوں گا۔اور فرمایا، اللہ تعالیٰ تیری حفاظت اپنی طرف سے کرے گا۔اور وہی بے حد رحم کرنے والا دوست ہے۔(تذکره صفحه ۴۵۴-۴۵۳ مطبوعه ۱۹۶۹ء ) پھر جنوری کا ایک الہام ہے۔اِنِّی مَعَ الأفْوَاجِ اتِيْكَ۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔يَاجِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ۔( تذکره صفحه ٥٤٥ - مطبوعه عه ١٩٦٩ء) میں فوجوں کے ساتھ تیرے پاس آؤں گا۔کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔پہاڑو اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھک جاؤ اور اے پرند و تم بھی۔جنوری (۱۹۰۳ء) میں ایک رؤیا ہے۔اس کا ذکر اس طرح ہے کہ حضرت اقدس نے عشاء سے پیشتر یہ رویا سنائی کہ میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں۔اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کشیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے۔اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے وگاڑیوں ، رتھوں پر ہے اور وہ ہمارے بہت قریب آ گیا ہے۔میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ہم پکڑے گئے۔تو میں نے بلند آواز سے کہا كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِيـن۔اتنے میں میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔یعنی اس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہیں نہیں ، ایسا نہیں ہوسکتا۔میرا رب میرے ساتھ ہے اور وہ ضرور میرے لئے راستہ نکالے گا۔(تذکره ٤٥٤) پھر جنوری ۱۹۰۳ء میں ہی ہے۔فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک مضمون شائع کرنے لگا ہوں۔گو یا کرم دین کے مقدمہ کے بارہ میں آخری نتیجہ کیا ہوا۔اور میں اس پر