خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 207

$2003 207 خطبات مسرور جنوری ۱۹۰۳ ء کا ایک الہام ہے۔آپ فرماتے ہیں: اول ایک خفیف خواب میں جو کشف کے رنگ میں تھی مجھے دکھایا گیا کہ میں نے ایک لباس فاخرہ پہنا ہوا ہے اور چہرہ چمک رہا ہے۔پھر وہ کشفی حالت وحی کی طرف منتقل ہو گئی۔چنانچہ وہ تمام فقرات وحی الہی کے جو بعض اس کشف سے پہلے اور بعض بعد میں تھے ، ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔اور وہ یہ ہیں : يُبْدِي لَكَ الرَّحْمَنُ شَيْئًا أَتَى اَمْرُ اللهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوْهُ بِشَارَةٌ تَلَقَّاهَا النَّبِيُّوْنَ۔یعنی خدا جو رحمن ہے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے کچھ ظہور میں لائے گا۔خدا کا امرآ رہا ہے۔تم جلدی نہ کرو۔یہ ایک خوشخبری ہے جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ صبح پانچ بجے کا وقت تھا۔یکم جنوری ۱۹۰۳ء و یکم شوال ۱۳۲۰ھ روز عید، جب میرے خدا نے مجھے یہ خوشخبری دی۔(تذکره صفحه ٤٤٨ - ٤٤٩ ـ مطبوعه ١٩٦٩ء) پھر جنوری کا ہی ایک الہام ہے : جَاءَ نِی أَئِلٌ وَاخْتَارَ وَأَدَارَ إِصْبَعَهُ وَأَشَارَ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنَ الْعِدَا وَيَسْطُوْ بِكُلِّ مَنْ سَطَا۔فرمایا کہ آئل جبرائیل ہے ، فرشتہ بشارت دینے والا۔پھر اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آیا میرے پاس آئل اور اس نے اختیار کیا ( یعنی چن لیا تجھ کو ) اور گھمایا اس نے اپنی انگلی کو اور اشارہ کیا کہ خدا تجھے دشمنوں سے بچاوے گا۔اور ٹوٹ کر پڑے گا اس شخص پر جو تجھ پر ا چھلا۔آپ اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ آئل اصل میں آیا کت سے ہے۔یعنی اصلاح کرنے والا۔جو مظلوم کو ظالم سے بچاتا ہے۔یہاں جبرئیل نہیں کہا، آئل کہا۔اس لفظ کی حکمت یہی ہے کہ وہ دلالت کرے کہ مظلوم کو ظالموں سے بچاوے۔اس لئے فرشتہ کا نام ہی آئل رکھ دیا۔پھر اس نے انگلی ہلائی کہ چاروں طرف کے دشمن۔اور اشارہ کیا کہ يَعْصِمُكَ اللَّهُ مِنَ الْعِدَا وغیرہ۔یہ بھی اس پہلے الہام سے ملتا ہے۔اِنَّهُ كَرِيمٌ تَمَشَّى اَمَامَكَ وَعَادَى كُلَّ مَنْ عادی۔وہ کریم ہے۔تیرے آگے آگے چلتا ہے۔جس نے تیری عداوت کی اس نے اُس کی عداوت کی۔چونکہ آئل کا لفظ لغت میں مل نہ سکتا ہوگا۔یا زبان میں کم مستعمل ہوتا ہوگا۔اس لئے