خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 209
209 $2003 خطبات مسرور یہ عنوان لکھنا چاہتا ہوں تَفْصِيلُ مَا صَنَعَ اللهُ فِي هذا الْبَأْسِ بَعْدَ مَا اشَعْنَاهُ فِي النَّاسِ۔قَدْ بَعُدُوْا مِنْ مَّاءِ الْحَيَاةِ۔وَسَحِقْهُمْ تَسْحِيْفًا۔یعنی تفصیل ان کارناموں کی جو خدا نے اس جنگ میں کئے بعد اس کے کہ ہم نے اس پیشگوئی کولوگوں میں شائع کیا۔وہ زندگی کے پانی سے دور ہو گئے ہیں پس تو انہیں اچھی طرح پیس ڈال۔(تذکره (٤٥٦) ۲۸ جنوری ۱۹۰۳ء کو آپ نے فرمایا کہ آج صبح کو الہام ہوا: سَأَكْرِمُكَ إِكْرَامًا عَجَبًا۔اس کے بعد تھوڑی سی غنودگی میں ایک خواب بھی دیکھا کہ ایک چوغہ سنہری بہت خوبصورت ہے۔میں نے کہا کہ عید کے دن پہنوں گا۔فرماتے ہیں کہ الہام میں عجبا کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی نہایت ہی مؤثر بات ہے۔(تذکره ١٩٦٩ ، صفحه ٤٥٨ جنوری ۱۹۰۳ء کا یہ الہام ہے۔اِنِّی مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ أَصَلَّى وَاَصُوْمُ يَا جِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ۔قَدْ بَعُدُوْا مِنْ مَّاءِ الْحَيَاةِ۔وصَحِقْهُمْ تَسْحِيْقَا“۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔میں خاص رحمتیں نازل کروں گا اور عذاب کو روکوں گا۔اے پہاڑو اور اے پرندو! میرے اس بندہ کے ساتھ وجد اور رقت سے میری یاد کرو۔وہ زندگی کے پانی سے دور ہو گئے ہیں۔پس تو انہیں اچھی طرح پیس ڈال۔(تذکره ١٩٦٩، صفحه ٤٥٨) پھر آپ فرماتے ہیں ۳۰ / جنوری ۱۹۰۳ء کی بات ہے۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ گویا زار روس کا سوٹا میرے ہاتھ میں ہے اور اس میں پوشیدہ طور پر بندوق کی نالی بھی ہے۔دونوں کام نکالتا ہے۔اور پھر دیکھا کہ وہ بادشاہ جس کے پاس بو علی سینا تھا اس کی کمان میرے پاس ہے۔اور میں نے اس کمان سے ایک شیر کی طرف تیر چلایا ہے اور شاید بوعلی سینا بھی میرے پاس کھڑا ہے اور وہ بادشاہ بھی“۔(تذکره ١٩٦٩، صفحه (٤٥٩،٤٥٨ فروری ۱۹۰۳ ء کو سیر میں حضرت اقدس نے یہ الہامات سنائے جو کہ آپ کو رات کو ہوئے۔سننجِيْكَ سَنُعْلِيْكَ إِنِّي مَعَكَ وَ مَعَ أَهْلِكَ۔سَأَكْرِمُكَ إِكْرَامًا