خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 191

$2003 191 خطبات مسرور تقریری ذریعوں سے روحانی فائدہ پہنچایا گیا اور اُن کے مشکلات حل کر دئے گئے۔اور اُن کی کمزوری کو دور کر دیا گیا اس کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریر میں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئیں یا کی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقعہ کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے یہ طریق بعض صورتوں میں تالیفات کی نسبت نہایت مفید اور مؤثر اور جلد تر دلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد سوم۔صفحه ١٥،١٤) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمانوں نوازی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت صاحب مہمانوں کی خاطر داری کا بہت اہتمام رکھا کرتے تھے۔جب تک تھوڑے مہمان ہوتے تھے آپ خود ان کے کھانے اور رہائش وغیرہ کا انتظام کیا کرتے تھے۔جب مہمان زیادہ ہونے لگے تو خدام حافظ حامد علی صاحب، میاں نجم الدین صاحب وغیرہ کو تاکید فرماتے رہتے تھے کہ دیکھو مہمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔اُن کی تمام ضروریات، خوردونوش و رہائش کا خیال رکھا کرو۔بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر ان کی تواضع کرو۔سردی کے ایام میں فرمایا کرتے مہمانوں کو چائے پلاؤ۔ان سب کی خوب خدمت کرو۔اگر کسی کو علیحدہ کمرے یا مکان کی ضرورت ہو تو اس کا انتظام کر دواگر کسی کو سردی کا خوف ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب - صفحه (۱۹۵) پھر اسی طرح ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: د لنگر خانہ کے مہتم کو تاکید کر دی جاوے کہ وہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مد نظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اُسے خیال نہ رہتا ہو، اس لیے کوئی دوسرا شخص یاد دلا دیا کرے۔کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دست کش نہ ہونا چاہیے، کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ اُن کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں۔بعض وقت کسی کو بیت الخلا کاہی پتہ نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے۔میں تو اکثر بیمار ہتا ہوں،اس