خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 190
خطبات مسرور انداز تھے۔190 $2003 اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کے کیا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ شروع میں جب مہمانوں کی زیادہ کثرت نہیں تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحت بھی نسبتاً بہتر تھی ، آپ اکثر مہمانوں کے ساتھ اپنے مکان کے مردانہ حصہ میں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور کھانے کے دوران میں ہر قسم کی بے تکلفانہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا دستر خوان بھی بچھ جاتا تھا۔ایسے موقعوں پر آپ عموماً ہر مہمان کا خود ذاتی طور پر خیال رکھتے تھے اور اس بات کی نگرانی فرماتے تھے کہ اگر کبھی دستر خوان پر ایک سے زیادہ کھانے ہوں تو ہر شخص کے سامنے دستر خوان کی ہر چیز پہنچ جائے۔عموماً ہر مہمان کے متعلق دریافت فرماتے رہتے تھے کہ کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے پالسی یا پان کی عادت تو نہیں۔اور پھر حتی الوسع ہر ایک کے لئے اُس کی عادت کے موافق چیز مہیا فرماتے تھے۔بعض اوقات اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی مہمان کو اچار کا شوق ہے اور اچار دستر خوان پر نہیں ہوتا تھا تو خود کھانا کھاتے کھاتے اُٹھ کر اندرون خانہ تشریف لے جاتے اور اندر سے اچار لاکر ایسے مہمان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔اور چونکہ آپ بہت تھوڑا کھانے کی وجہ سے جلد شکم سیر ہو جاتے تھے اس لئے سیر ہونے کے بعد بھی آپ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرے اٹھا کر منہ میں ڈالتے رہتے تھے تا کہ کوئی مہمان اس خیال سے کہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا ہے دستر خوان سے بھوکا ہی نہ اُٹھ جائے۔(سیرت طیبه - صفحه ۱۱۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادر ین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرقہ سے آنے والے ہیں جو اس آسمانی کارخانہ کی خبر پا کر اپنی اپنی نیتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں۔یہ شاخ بھی برابر نشو و نما میں ہے۔اگر چہ بعض دنوں میں کچھ کم مگر بعض دنوں میں نہایت سرگرمی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ ان سات برسوں میں ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے اور جس قدر اُن میں سے مستعد لوگوں کو