خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 133
$2003 133 خطبات مسرور مصیبت کے وقت اس کے کام آتا ہے۔پھر عروہ میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ صرف دین ہی انسان کے کام آنے والی چیز ہے، اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔باقی تمام تعلقات عارضی ہوتے ہیں اور مصیبت کے آنے پر ایک ایک کر کے کٹ جاتے ہیں۔بے شک انسان اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی اپنا بہترین رفیق قرار دیتا ہے لیکن بسا اوقات ان سے کمزوری یا بے وفائی ظاہر ہو جاتی ہے اور اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ حقیقی تعلقات وہی ہیں جن کی بنیادیں دین اور مذہب پر استوار کی جائیں اور انہی میں برکت ہوتی ہے۔“ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ٥٨٨) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مسلمانوں کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: جس کام کے لئے آپ لوگوں کے عقیدوں کے موافق مسیح ابن مریم آسمان سے آئے گا یعنی یہ کہ مہدی سے مل کر لوگوں کو جبر مسلمان کرنے کے لئے جنگ کرے گا یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جو اسلام کو بدنام کرتا ہے۔قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر درست ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں فرماتا ہے ﴿لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین میں جبر نہیں ہے۔پھر مسیح ابن مریم کو جبر کا اختیار کیونکر دیا جائے گا یہاں تک کہ بجز اسلام یا قتل کے جزیہ بھی قبول نہ کرے گا۔یہ تعلیم قرآن شریف کے کس مقام ، اور کس سیپارہ اور کس سورہ میں ہے۔سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت ﷺ کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبر شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا تو بطور سزا تھیں یعنی ان لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ - یعنی ان مسلمانوں کو جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں بسبب مظلوم ہونے کے مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ جو ان کی مدد کرے۔اور یادہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں یعنی جو لوگ اسلام کے نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کو شائع ہونے سے جبر ارو کتے تھے ان سے بطور حفاظت خود اختیاری یا ملک میں