خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 132
132 $2003 خطبات مسرور طرح پکڑو گے تو کامیاب ہوگے اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ میں مسیح موعود ہی وہ مضبوط کڑا ہے جو احکام الہی کی صحیح تشریح کرتا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو جس طرح پیش کرتا ہے وہ صحیح تعلیم ہے۔تو اگر اس پر عمل کرو گے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ایک مدت سے مسلمان اپنی زبوں حالی کی وجہ سے بڑے پریشان رہے اور یہ انتظار کرتے رہے کہ مسیح اور مہدی جلد ظاہر ہوتا کہ ہم اس کے ساتھ چمٹ کر اسلام کی ترقی کے نظارے دیکھیں اور اسلام کا دردر کھنے والے دعائیں بھی کر رہے تھے لیکن جب اس موعود کا ظہور ہوا تو کیا ہوا، ایک بہت بڑی تعداد انکاری ہو گئی صرف اس لئے کہ وہ امن و آشتی اور صلح کا پیغام لے کر آیا تھا۔پھر اس آیت کی مزید تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : اقرار اور ایمان سے اس آیت میں یہی مراد ہے کہ وہ شیطان کی باتوں کو ر ڈ کرتا اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو مانتا ہے۔ایسے شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُ تقی۔عروہ کے معنے دستے کے بھی ہوتے ہیں جس سے کسی چیز کو پکڑا جاتا ہے اور عروہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس پر اعتبار کیا جائے اور عروہ کے معنے ایسی چیز کے بھی ہوتے ہیں جس کی طرف انسان ضرورت کے وقت رجوع کرے، اور عروہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہے اور کبھی ضائع نہ ہو۔اور عروہ بہترین مال کو بھی کہتے ہیں۔فرمایا : اگر عروہ کے معنے دستے کے لئے جائیں تو اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ دین کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی لطیف چیز قرار دیا ہے جو کسی برتن میں پڑی ہوئی ہو اور محفوظ ہو اور انسان نے اس برتن کا دستہ پکڑ کر اسے اپنے قبضہ میں کر لیا ہو۔پھر عروہ کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دین ایک ایسی چیز ہے جس کا انسان سہارا لے لیتا ہے تا کہ اسے گرنے کا ڈر نہ رہے، جیسے سیڑھیوں پر چڑھنے کے لئے انسان کو رستہ کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ اسے پکڑ لیتا ہے۔اسی طرح دین بھی اس رشتہ کی طرح ایک سہارا ہے، اسے مضبوط پکڑ لینے سے گرنے کا ڈر نہیں رہتا۔پھر فرماتے ہیں کہ عروہ کہہ کر یہ بھی بتایا کہ اگر انسان اسے مضبوطی سے پکڑلے تو وہ ہر