خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 100
خطبات مسرور 100 ہر چیز لے کے آتے تھے کھانے کی۔اور آج بھی ہر چیز وہاں میسر ہے۔$2003 وَاذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ ﴾ (البقرۃ: ۱۲۲)۔بیت اللہ کولوگوں کیلئے جھنڈ در جُھنڈ آنے کی جگہ بنایا۔اب دیکھیں حج کے موقع پر لاکھوں آدمی ہر سال وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی سارا سال لوگ عمرہ کے لئے جاتے رہتے ہیں۔ششم : ﴿هُوَ الَّذِي بَعَثْ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ (الجمعة : ۳) اللہ وہ ہے جس نے بھیجا مکہ والوں میں رسول ،انہی میں سے۔پڑھتا ہے ان پر اللہ کی آیتیں۔پاک کرتا ہے انہیں اور سکھاتا ہے ان کو کتاب و حکمت یعنی نبی کریم ہفتم: وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا (ال عمران: ۹۸) اور جو داخل ہوا مکہ میں ہو ا امن پانے والا۔تو حضور فرماتے ہیں کہ : 'سات دعا ئیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام و برکاتہ نے مانگیں اور ساتوں قبول ہوئیں۔(نور الدین صفحه ٢٤٩ - ٢٥٠) اس ضمن میں حضرت خلیفہ اسیع اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” دعاؤں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہا۔ان کے نتائج عرصہ دراز کے بعد بھی ظہور پذیر ہوتے ہیں لیکن مومن کبھی تھکتا نہیں۔قرآن شریف میں دعاؤں کے نمونے موجود ہیں۔ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے وہ اپنی اولاد کیلئے کیا خواہش کرتے ہیں: ﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِنْهُمْ۔اس دعا پر غور کر و حضرت ابراہیم کی دعا روحانی خواہشوں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے تعلقات ، بنی نوع انسان کی بھلائی کے جذبات کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے۔وہ دعا مانگ سکتے تھے کہ میری اولاد کو بھی بادشاہ بنادے مگر وہ کیا کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! میری اولاد میں انہیں میں کا ایک رسول معبوث فرما۔اس کا کام کیا ہو؟ وہ ان پر تیری آیات تلاوت کرے اور اس قدر قوت قدسی رکھتا ہو کہ وہ ان کو پاک و مطہر کرے اور ان کو کتاب اللہ کے حقائق وحکم سے آگاہ کرے۔اسرار شریعت ان پر کھولے۔پس یہ ایسی عظیم الشان دُعا ہے کہ کوئی دعا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ابتدائے آفرینش سے جن لوگوں کے حالات زندگی ہمیں مل سکتے ہیں۔کسی کی زندگی میں یہ دعا پائی نہیں جاتی۔حضرت