خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 99
99 خطبات مسرور لوگ جانتے ہو اور یہ صرف اس دعاہی کے ثمرات ہیں جس سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں۔“ $2003 (حقائق الفرقان جلد ۱ صفحه ٢٣٤،٢٣٣) حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مسجد ( خانہ کعبہ ) کی تعمیر کے وقت سات دعائیں کی ہیں: اول: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا - دوم: ﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا یعنی اے ہمارے رب ! اپنا ہی ہمیں فرمانبردار بنادے اور ہماری اولاد سے ایک گروہ مُعَلِّمُ الْخَيْر تیرا فرمانبردار ہو اور دکھا ہمیں اپنی عبادت گاہیں اور طریق عبادت۔سوم : ﴿ وَ اجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَام ﴾ (ابراهیم : (۳۶) - بچالے مجھے اور میری اولا دکو کہ بت پرستی کریں۔چہارم یہ کہ: ﴿وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ اور رزق دے مکہ والوں کو پھلوں سے۔پنجم : فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِن النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ (ابراہیم : ٣٩) کچھ لوگوں کے دل اس شہر کی طرف جھکا دے۔ششم: ﴿وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا ان میں عظیم الشان رسول بھیج ہفتم: اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا﴾ (ابراهیم : ۳۶) اس شہر کو امن والا بنا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم میں ان دعاؤں کے قبول ہونے کا ذکر آیات ذیل میں ہے جو سات ہیں: اول جو دعا کی اس کے جواب میں : جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ (المائدة : (۹۸) اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو عزت والا اور حرمت والا بنایا۔:دوم ﴿وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِيْنَ ﴾ (البقرة : ١٣١) اور بے ریب برگزیدہ کیا ہم نے اسے اسی دنیا میں اور بے ریب آخرت میں سنوار والوں سے ہے۔سوم: طَهَّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾ (البقرة : ۱۲۲) یعنی ستھرا رکھو اس میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے۔اور فرمایا وَهُدًى لِلنَّاسِ ہدایت کا مقام ہے لوگوں کے لئے۔چہارم : أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوع ﴾ (قریش:۵) کھانا دیا ان کو بھوک کے بعد۔اب دیکھیں تو مکہ جس علاقہ میں ہے وہاں نہ کوئی ایسی کھیتی باڑی ہے جہاں سے مختلف قسم کی خورا کیں آتی ہوں لیکن اس قبولیت کے نتیجہ میں آج بلکہ اس زمانہ میں بھی تجارتی قافلے آتے تھے