خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 489
489 $2003 خطبات مسرور ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا ایسا حق ہے جو واجب ہے سوائے چار قسم کے افراد کے۔یعنی غلام ، عورت، بچہ اور مریض۔(ابوداؤد كتاب الصلواة باب الجمعة للملوك والمرأة) بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو تو بات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔بعض لوگ اپنے بچوں کو خطبے کے دوران منہ سے بول کر روک ٹوک کر رہے ہوتے ہیں ، خاص طور پر عورتوں میں۔تو ان کو یا درکھنا چاہئے کہ اول تو بالکل چھوٹے بچوں کو جن کو سنبھالنا مشکل ہو مسجد میں نہ لائیں اور ایسی حالت میں ضروری بھی نہیں عورتوں کے لئے کہ ضرور ہی آئیں۔تو یہ حدیث جو میں نے پڑھی ہے اس میں بچوں کو ویسے بھی رخصت ہے۔دوسرے بچوں کو سمجھا کر لانا چاہئے کہ مسجد کے آداب ہوتے ہیں۔بولنا نہیں ، شور نہیں کرنا وغیرہ۔اور مستقل اگر بچے کے ذہن میں یہ بات ڈالتے رہیں تو آہستہ آہستہ بچے کو سمجھ آجاتی ہے۔اگر نہ سمجھا ئیں تو میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ آٹھ دس سال کی عمر کے بچے بھی آپس میں خطبے کے دوران بول رہے ہوتے ہیں، باتیں کر رہے ہوتے ہیں،ایک دوسرے کو چھیڑ رہے ہوتے ہیں، شرارتیں کر رہے ہوتے ہیں۔تو اس طرف بچوں کو مستقل توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔اور اگر کبھی ساتھ بیٹھے ہوئے بچے کو یا کسی دوسرے شخص کو خاموش کروانا پڑے تو اشارہ سے سمجھانا چاہئے ، منہ سے کبھی نہیں بولنا چاہئے۔حدیث میں آیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ: ”جمعہ کے روز جب امام خطبہ دے رہا ہو اگر تم اپنے قریبی ساتھی کو کہو خاموش ہو جاؤ تو تمہارا 66 یہ کہنا بھی لغو فعل ہے۔(مسلم) كتاب الجمعة باب في الانصات يوم الجمعة جن آیات کی تلاوت کی گئی تھی ان کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اسلام میں جمعہ کے دن کے لئے یہ خصوصیتیں مقرر فرمائی ہیں کہ اس دن چھٹی رکھی جائے ، عبادت زیادہ کی جائے، اسے قومی اجتماع کا دن بنایا جائے، نہایا دھویا جائے ، صفائی کی جائے، مریضوں کی عیادت کی جائے ، اسی طرح اور قومی اور تمدنی کام کئے جائیں۔ہاں جمعہ کی نماز سے فراغت کے بعد اجازت دی گئی ہے کہ لوگ اپنے مشاغل میں لگ جائیں مگر زیادہ مناسب اسی کو قرار دیا ہے کہ بعد میں بھی لوگ ذکر الہی میں مشغول رہیں۔