خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 242
$2003 242 خطبات مسرور بچا سکتا ہے۔آپ نے فرمایا: اللہ۔اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔تو حضور نے تلوار اٹھائی اور فرمایا کہ اب مجھ سے تمہیں کون بچا سکتا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا کہ آپ درگز رفرما دیں۔آپ نے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔وہ تھا بھی پکا مشرک۔اس پر اس نے کہا نہیں۔لیکن میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آپ سے کبھی لڑائی نہیں کروں گا۔اور نہ ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔اس پر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔وہ اپنے ساتھیوں سے جاملا اور ان سے کہنے لگا، میں تمہارے ہاں ایک ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جولوگوں میں سب سے بہتر ہے۔(بخاری کتاب المغازی با ب غزوة ذات الرقاع یہ ٹھیک ہے کہ آنحضرت ﷺ سے خدا تعالیٰ کا جو سلوک تھا اور جو وعدے تھے وہ عام مسلمان کے لئے یا عام انسان کے لئے نہیں ہو سکتا۔لیکن جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رات کے وقت آنحضرت ﷺ کی حفاظت کی غرض سے پہرہ لگا کرتا تھا۔حضور کو جب وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) کی وحی نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے برے ارادوں سے تجھے محفوظ رکھے گا۔تو حضور ﷺ نے خیمہ سے باہر جھانکا اور فرمایا کہ اب تم لوگ جا سکتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود میری حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔لیکن یہاں اپنی امت کو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین قائم کرنے کے لئے اور اس پر تو کل کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے آپ ایک جگہ یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔یہ وہ لوگ ہوں گے جو دوسروں کے عیوب کی تلاش میں لگے نہیں رہتے اور نہ ہی فال لینے والے ہوں گے بلکہ اپنے رب پر تو کل کرتے ہوں گے۔(بخارى كتاب الرقاق باب يدخل الجنة سبعون الفا۔۔۔۔۔۔تو اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اگر امت کے لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں گے، بیہودہ گوئی ، لغو، فضول کاموں میں ملوث نہیں ہوں گے، حقوق العبادا دا کرنے والے ہوں گے، اپنے رب پر ایمان لانے والے ہوں گے ، اس پر تو کل کرنے والے ہوں گے، اور اسی کی