خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 243

خطبات مسرور 243 طرف جھکنے والے ہوں گے تو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔$2003 تو یہاں جو تعداد کا ذکر ہے یہ کثرت کے لئے ہے اور ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی ہے کہ میری اُمت میں ایسے لوگ کثرت سے ہوں گے انشاء اللہ، جو اللہ پر توکل رکھنے والے ہوں گے اور قیامت تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔یہ نہیں کہ جہاں ستر ہزار کی تعداد مکمل ہوئی وہاں فرشتوں نے جنت کے گیٹ (Gate) بند کر دئے کہ اب وہ آخری آدمی جو نیکیوں اور توکل کرنے والا تھا وہ تو جنت میں داخل ہو گیا اب ختم۔اب چاہے تم تو کل کرو، نیکیاں کرو یا نہ کرو جنت میں داخل نہیں ہو سکتے۔نہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔اللہ کرے ہم میں سے ہر احمدی توکل سے پُر ہو، اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین سے پر ہو، اور اس کی مغفرت اور رحمت کی چادر میں لپٹا ہوا ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔یاد رکھو شرک یہی نہیں کہ بتوں اور پتھروں کی تراشی ہوئی مورتیوں کی پوجا کی جاوے یہ تو ایک موٹی بات ہے۔یہ بڑے بے وقوفوں کا کام ہے۔دانا آدمی کو تو اس سے شرم آتی ہے۔شرک بڑا باریک ہے۔شرک جو ا کثر ہلاک کرتا ہے وہ شرک فی الاسباب ہے یعنی اسباب پر اتنا بھروسہ کرنا کہ گویاوہی اس کے مطلوب و مقصود ہیں۔جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کو دنیا کی چیزوں پر بھروسہ ہوتا ہے اور وہ امید ہوتی ہے جو دین وایمان سے نہیں۔نقد فائدہ کو پسند کرتا ہے اور آخرت سے محروم۔جب وہ اسباب پر ہی اپنی ساری کامیابیوں کا مدار خیال کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کو تو اس وقت وہ لغو محض اور بے فائدہ جانتا ہے اور تم ایسا نہ کرو تم تو کل اختیار کرو اور تو کل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر کچھ دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں۔جو ان اسباب کو بھی برباد اور تہ و بالا کر سکتے ہیں۔اب ذمہ دار اس مثال سے خوب واقف ہیں۔فصل اگتی ہے، فصل بڑھتی ہے، پکنے کے قریب ہوتی ہے ایک دم طوفان آتا ہے، اولے پڑتے ہیں اور فصل جو ہے بالکل کٹے ہوئے بھوسے کی مانند ہو جاتی