خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 79
خطبات مسرور جلد 13 79 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء اور اگر یاد دہانیاں ہوتی رہیں تو استعدادیں بہتر ہوتی جاتی ہیں۔پھر اسلام ہر مومن کے لئے یہ بھی ضروری قرار دیتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرے۔صرف مربیان یا عہد یداروں کا کام ہی نہیں ہے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا۔نماز کے لئے لانے کی طرف یہ توجہ ضروری نہیں کہ دُور سے ہی لانا ہے۔ہماری مسجدوں کے اردگرد جو قریب قریب ہمسائے رہتے ہیں وہ قریب رہنے والے بھی کوشش کریں۔مسجد فضل کے نزدیک یا اس بیت الفتوح کے نزدیک جولوگ ہیں وہ اگر ہمسایوں کو تو جہ دلاتے رہیں تو حاضریاں بڑھ سکتی ہیں۔اسی طرح باقی مساجد میں۔اور یہ حقیقی اسلامی مؤاخات بھی ہے۔ایک دوسرے سے بھائی چارہ اور محبت بھی ہے کہ ان کا خیال رکھا جائے۔ان کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی جائے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی مومنوں پر فرض کیا ہے کہ وہ جب آگے بڑھیں تو اپنے بھائیوں کو بھی بلائیں کہ آؤ ا سے حاصل کرو۔جو کمزور ہیں انہیں کھینچ کر اوپر لائیں۔یہ کام کہ دوسروں کو ھیچکر اوپر لانا یہ خود بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بنائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خیر کی طرف لے جانے والا ثواب کا ویسا ہی مستحق ہوتا ہے جیسا کہ نیکی کرنے والا۔(سنن الترمذی ابواب العلم باب ماجاء الدال على الخير كفاعله حدیث نمبر (2670) پس با جماعت نماز پڑھنے والے کو جہاں اپنی باجماعت نماز پڑھنے کا ستائیس گنا ثواب ملے گا وہاں وہ اپنے ساتھ لانے والے جتنے افراد ہوں گے ان کا بھی ثواب کما رہا ہو گا۔مثلاً اگر ایک شخص اپنے ساتھ تین اشخاص کو لے کر آتا ہے تو اس نماز میں اس کا ثواب ستائیس گنا کی بجائے ایک سو آٹھ گنا ہو جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ کے بھی دیکھیں اپنے بندوں کو نوازنے کے کیا کیا انداز ہیں۔پس ہم میں سے ہر ایک جہاں خود دین کے کام میں چست ہو وہاں دوسروں کو بھی چست کرنے کی کوشش کرے۔اگر ہر ایک اس سوچ کے ساتھ کام کرے تو ہم نہ صرف دوسروں کی استعدادیں بڑھانے میں حصہ دار بن رہے ہوں گے بلکہ اپنی استعدادیں بھی اس سوچ کے ساتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ میں نے بھی ایک جگہ کھڑے نہیں رہنا، ترقی کرنی ہے۔اور پھر دوسروں کو خیر مہیا کر کے اللہ تعالیٰ کے کئی گنا فضلوں کے بھی مستحق بن رہے ہوں گے جیسا کہ میں نے حدیث سے بتایا۔اور یہ سوچ جماعت کی عمومی ترقی میں بھی ایک تغیر پیدا کرنے والی بن جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی استعدادوں کو بڑھاتے چلے جانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے چلے جانے والے ہوں۔آج بھی میں نمازوں کے بعد دو جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ایک محتر مہ جنان العنانی صاحبہ کا ہے جو