خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 80

خطبات مسرور جلد 13 80 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء شام کی رہنے والی ہیں اور آجکل ترکی میں تھیں۔23 جنوری 2015ء کو 57 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔11 جنوری 1958ء کو پیدا ہوئیں۔احمدیت سے قبل یہ سوچ کر کہ دنیا تو فانی ہے اس لئے خدا کی قربتیں تلاش کرنی چاہئیں انہوں نے بہت سے فرقوں کا مطالعہ کیا لیکن کہیں سکون نہ پایا۔ہمیشہ بڑے درد سے خدا سے ہدایت کی دعا کرتی رہیں۔آخر 1994ء میں ایم ٹی اے سے تعارف ہوا تو پروگرام لقاء مع العرب میں ان کا دل اٹک گیا۔ان پروگرامز کو دیکھنے کے بعد پہلی مرتبہ انہیں سکون نصیب ہوا۔پھر انہوں نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالی کی خدمت میں سوالات بھیجے جن کے جوابات لقاء مع العرب میں دیئے گئے۔لقاء مع العرب میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے جوابات سے یہ بہت متاثر ہوئیں اور 1995ء میں اپنے خاوند کے سامنے احمدی ہونے کا اعلان کر دیا۔اس فیصلہ میں ان کی بیٹی بھی ان کے ساتھ تھیں۔گو انہیں اپنے والد کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تا ہم ان کی نیکی، تقویٰ حسن اخلاق حسن اعمال کو دیکھ کر ان کے خاوند اور دیگر بچے بھی احمدیت کی آغوش میں آگئے۔مرحومہ بڑی سادہ طبیعت کی خوش اخلاق مخلص، نماز و تہجد کی پابند، رقیق القلب انسان تھیں۔سب کی مدد کر تیں اور چھوٹوں بڑوں سے شفقت اور محبت سے پیش آتیں۔مرحومہ نے شام اور ترکی میں لجنہ اماءاللہ اور بچوں کی تربیت کی اور انہیں نظام جماعت سکھانے اور خلافت کی محبت اور اس سے جڑے رہنے کی اہمیت ان کے دلوں میں راسخ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ایک لمبے عرصے تک وہاں کے ایک شہر کی صدر لجنہ اماء اللہ رہی ہیں پھر جب ترکی میں آئیں تو وہاں بھی انہیں صدر لجنہ سکندرون مقرر کیا گیا اور تا دم آخر یہ اس فرض کو باحسن نبھاتی رہیں۔اپنے پیچھے خاوند کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔سب کے سب بفضلہ تعالیٰ مخلص احمدی ہیں۔مرحومہ موصیہ بھی تھیں۔وصیت انہوں نے کی تھی لیکن شام کے حالات کی وجہ سے ان کا ریکارڈ گم گیا۔بہر حال وصیت ان کی زیر کارروائی ہے۔کار پرداز اس کی کارروائی کر لے اور وصیت منظور کر دے۔مرحومہ کے بیٹے علی جبر صاحب کہتے ہیں کہ والدہ صاحبہ خود بھی نماز تہجد کا با قاعدگی سے التزام کرتیں اور تمام اہل خانہ کو بھی اس کی تلقین کرتیں۔ہمیشہ کہتی تھیں کہ نیند کی لذت کو تہجد کے لئے جاگنے کے شوق سے بدل دو تا تم ثابت کر سکو کہ تمہاری زندگی کی سب سے بڑی اور اہم لذت خدا کی عبادت ہے۔نیز فرماتیں کہ خدا سے محبت کے اظہار کا یہ طریق بھی اختیار کرو کہ وضو کر کے تیار ہو کر اذان کے انتظار میں بیٹھو جیسے تم کسی بہت ہی پیارے سے ملاقات کے لئے بے چینی سے انتظار کرتے ہو۔محمد شریف صاحب ترکی سے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود اور خلیفہ اور